menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قوم سو رہی ہے۔۔۔ براہ ...

23 0
04.10.2026

ایمرجنسی صوبوں میں لگے گی یا پورے ملک میں؟لانگ مارچ ہوگا یا مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے؟مذاکرات کامیاب ہوئے تو مارچ کہاں جائے گا؟اور مارچ چل پڑا تو مذاکرات کس کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے؟ملک اس وقت سوالوں سے بھرا پڑا ہے۔جواب البتہ حسب معمول راستے میں ہیں۔ہمارے ہاں سیاست بھی عجیب مہمان ہے۔جب حالات معمول پر ہوں تو سب کو جلدی ہوتی ہے اور جب حالات غیر معمولی ہوجائیں تو سب کو مذاکرات یاد آجاتے ہیں۔ ایک طرف لانگ مارچ کی تیاریوں اور اعلان کی بات ہے۔ دوسری طرف ایاز صادق صاحب کی سربراہی میں مذاکرات کا سلسلہ ہے۔یعنی ایک ہاتھ میں مکالمہ ہے، دوسرے میں احتجاج۔زبان پر مفاہمت ہے اور جیب میں اگلا سیاسی پتہ۔اسے تضاد مت سمجھیے۔یہ ہماری سیاست کی پرانی سہولت ہے:دروازہ بھی کھلا رکھیے اور کھڑکی بھی۔معلوم نہیں واپسی کس راستے سے کرنی پڑ جائے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کیوں ہورہے ہیں۔مذاکرات تو ہونے چاہئیں۔سیاست کا متبادل اگر سیاست نہ رہے تو پھر جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے پْر کرنے کے لیے ہمیشہ سیاست دان نہیں آتے۔اصل سوال یہ ہے کہ مذاکرات کی ضرورت یہاں تک پہنچنے کے بعد ہی کیوں محسوس ہوتی ہے؟جب درجہ حرارت کم تھا، تب کون سو رہا تھا؟جب فاصلے بڑھ رہے تھے، تب کون ناپ رہا تھا؟جب زبان تلخ ہورہی تھی، تب کون تالیاں بجا رہا تھا؟جب ہر فریق اپنے کارکن کو یہ سمجھا رہا تھا کہ دوسری طرف کوئی سیاسی حریف نہیں بلکہ تقریباً قومی مصیبت کھڑی ہے، تب کسی کو خیال کیوں نہیں آیا کہ کل اسی ’’مصیبت‘‘ کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا بھی پڑ سکتا ہے؟سیاست کی یادداشت واقعی قابل رشک ہے۔صبح جس سے بات کرنا قومی مفاد کے خلاف ہوتا ہے، شام کو اسی سے مذاکرات قومی مفاد بن جاتے ہیں۔اور قوم؟قوم کو دونوں مرتبہ قومی مفاد سمجھا دیا جاتا ہے۔بات اب ایمرجنسی تک پہنچ رہی ہے۔کہیں صوبوں کا ذکر۔کہیں پورے........

© Nawa-i-Waqt