سیاسی استحکام کیلئے ...
ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے صدر زرداری اوروڑیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کیخلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے اورملکی امن و استحکام کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باہمی طور پر طے کیاہے کہ وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کا مشترکہ وفدپی ٹی آئی قیادت سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔جس میں محسن نقوی رانا ثنااللہ امیرمقام اور پیپلز پارٹی کی طرف سے شیری رحمان سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہوں گے۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ جیسے معاملات ختم ہوسکتے ہیں اور صوبے میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکتاہے تاہم اس سلسلے میں حکومتی وفد کو چاہیے کہ وہ خیبر پختونخواہ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ عجلت میں نہ کرے بلکہ سیاسی و معاشی اور ملکی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کرلیاجائے۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت دہشت گردی اور جنگ کی صورت حال کو سنبھالنے میں اپنا موثر کردار ادا کرتے ہوئے لانگ مارچ کو ختم کرنے پر رضا مند ہوجائے تو شاید سیاسی استحکام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ اگرحکومت پیٹرولیم لیوی مہنگائی اور بنیادی حقوق کے معاملات حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے اور اس........
