لہو سے لکھی ہوئی وفا کی ...
بلوچستان کا المیہ، دہشت گردی کی بزدلی اور افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیاں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف جسم پر نہیں، پوری قوم کے دل پر لگتے ہیں۔ بلوچستان کا تازہ سانحہ بھی ایسا ہی ایک زخم ہے۔رات کے اندھیرے میں جب دہشت گرد اپنی بزدلانہ کارروائیاں کرتے ہیں تو شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چند گولیوں، چند دھماکوں اور چند جانوں کے ضیاع سے ایک قوم کے ارادے کمزور پڑ جائیں گے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اس کے برعکس رہا ہے۔بلوچستان ایک بار پھر خون سے رنگ گیا ایک بار پھر کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے ایک بار پھر ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، بچوں کے سروں سے شفقت کا سایہ اٹھ گیا، اور وطن کے محافظوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی سرزمین کو اپنے لہو سے سینچ دیا۔یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا یہ پاکستان کے امن، ترقی، اتحاد اور مستقبل پر حملہ تھا یہ ان خوابوں پر حملہ تھا جو بلوچستان کے نوجوان اپنے روشن کل کے لیے دیکھتے ہیں یہ ان مزدوروں، اساتذہ، طلبہ، تاجروں اور عام شہریوں........
