menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سپیکر خیبر پختون خوا کے ...

12 0
previous day

منیر نیازی کے بقول’’عمر میری تھی مگر…‘‘ اس کو بسر(یعنی ضائع) ان لوگوں نے کیا جو 1980ء کی دہائی سے قوم کو جمہوری نظام اور آزادیِ اظہار کے خواب دکھارہے تھے۔ عمر تمام جن کی ستائش میں صرف کردی وہ اپریل 2022ء میں ملک کو ’’فسطائی نظام‘‘ سے بچانے کے لئے برسراقتدار آگئے۔ فروری 2024ء کے انتخابات ہوجانے کے بعد بھی حکومتی بندوبست ان ہی کے ہاتھ رہا۔ اقتدار سنبھالتے ہی لیکن وہ جمہوری کے بجائے ’’ہائی برڈ‘‘ حکومتی بندوبست کے پرچارک ومحافظ بن گئے۔ انتہائی عجلت میں ایسے قوانین اور آئین میں ترامیم متعارف و منظور کروائیں جن کی بدولت ایک لفظ لکھنے اور بولنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ گوشہ تنہائی میں اکثر بیٹھ کر لہٰذا اپنی ملامت میں مصروف رہتا ہوں۔فیض احمد فیض کی طرح ’’غم جہاں کا حساب‘‘ کرتے ہوئے اکثر یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید کرکٹ کے کھیل کی وجہ سے کرشمہ ساز ہوئے عمران خان کی بنائی تحریک انصاف اتنی بھی ’’غیر جمہوری‘‘ نہیں تھی جتنا میں فرض کئے بیٹھا تھا۔ مذکورہ جماعت کے بارے میں2011ء  سے اپنے تحظات کا اظہار شروع کیا تو سوشل میڈیا پر چھائے ’’عاشقانِ عمران‘‘ نے نہایت لگن سے مجھے لفافہ اور بدکردار ثابت کرنا شروع کردیا۔ ڈھیٹ ہڈی کی وجہ سے میں گھبرایا نہیں۔ اسی باعث 2018ء میں اقتدار سنبھالتے ہی عمران حکومت نے مجھے میڈیا سے دھکے دے کر غائب کرنا شروع کردیا۔ ’’نوائے وقت‘‘ نے اپنے صفحہ نمبر 2 پر ہفتے کے پانچ دن بلاکانٹ چھانٹ یہ کالم چھاپتے ہوئے مجھے زندہ رکھا۔ بالآخر اچھے دنوں کی طرح بْرے دن بھی نہ رہے۔ تحریک انصاف کے البتہ بْرے دن شروع ہوئے تو میں اس جماعت کے بارے میں ذاتی تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے تحفظات سے رجوع کرنے کو مجبور محسوس کرنا شروع ہوگیا۔خود احتسابی کے ایام میں نہایت دیانتداری سے یہ بھی محسوس کیا کہ خود کو ’’عشقِ عمران‘‘ میں مبتلا بتانے والے سہیل آفریدی سیاست کے........

© Nawa-i-Waqt