menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سندھ کے تہذیبی ورثے ...

18 0
06.07.2026

وادی سندھ کی پانچ ہزار سالہ عظیم تہذیب صرف اینٹوں اور پتھروں کی تعمیرات کا نام نہیں بلکہ یہ علم دانش فنونِ لطیفہ موسیقی اور تہذیبی شعور کی وہ لازوال داستان ہے جس نے انسانی تاریخ کے ماتھے پر روشنی کے چراغ جلائے۔ جب دنیا کے بیشتر خطے جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے تب سندھ کے باشندے علم و ہنر کی شاہراہوں پر سفر کر رہے تھے۔ یہی وہ سرزمین ہے جس نے انسان کو موسیقی کی لطافتوں سے روشناس کرایا اور محبت امن اور انسان دوستی کے نغمے عطا کئے۔اسی عظیم تہذیبی ورثے کی ایک خوبصورت علامت الغوزہ ہے۔الغوزہ بجانے کے لیے سانس کو بغیر روکے مستقل پھونک مارنے کی غیر معمولی صلاحیت درکار ہوتی ہے، الغوزہ جو صدیوں سے سندھ کی روح کی آواز بنا ہوا ہے۔ دو یا دو سے زائد بانسریوں کو یکجا کرکے تخلیق کیا جانے والا یہ منفرد ساز سندھ کے چرواہوں کسانوں صحرائی باسیوں اور صوفی منش فنکاروں کی شناخت رہا ہے۔ اس کی سحر انگیز لے میں صحرا کی وسعتیں دریاؤں کی روانی محبت کی کسک اور روحانیت کی گہرائیاں سمٹ آتی ہیں۔الغوزے کی اسی عظیم روایت کو آگے بڑھانے والوں میں پاکستان کے نامور الغوزہ نواز مرحوم مصری خان جمالی۔مرحوم استاد خمیسو خان اور الغوزہ نواز اللہ بچایو کھوسو نے مرحوم کا نام سنہری حروفوں میں لکھا جاتا ہے۔پاکستان........

© Nawa-i-Waqt