menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

آئی ایم ایف کے مصاحب بن ...

20 0
04.06.2026

ملکی سیاست کے بارے میں ایک لفظ لکھنے کو بھی ذہن تیار نہیں ہوتا۔ ریاستیں مگر اپنا خرچہ پانی چلانے کے لئے بجٹ نام کی ایک شے بہت محنت سے تیار کرتی ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے علم معاشیات کی مرعوب کن ڈگریاں لینے والے کئی دنوں تک یہ طے کرنے میں مصروف رہتے ہیں کہ ریاستی خرچ چلانے کے لئے معاشرے کے کونسے طبقات سے کتنا ٹیکس وصول کیا جائے۔ گزشتہ کئی برسوں سے لیکن بتدریج دریافت یہ ہوا کہ ہماری مٹی بقول اقبال بہت زرخیز ہونے کے باوجود وہ ’’نم‘‘ فراہم نہیں کرسکی جو سی ایس ایس کے امتحانات پاس کرنے کے بعد حکومت کے مختلف محکموں میں دس کے قریب برس گزارنے کے باوجود اپنے تئیں بجٹ تیار کرنے والے افراد پیدا کرسکیں۔ انہیں مزید ہنرمند بنانے کے لئے میرے اور آپ کے دئے ٹیکسوں سے امریکہ یا برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں بھیجا جاتا ہے۔ وہاں سے متاثر کن ڈگریوں کے حصول کے باوجود ان کا تیار کردہ ہر بجٹ حکومت کا خرچہ پورا کرنے میں ناکام رہا۔ اسے پورا کرنے کے لئے ہمیں غیر ملکی قرضوں کی طلب محسوس ہوناشروع ہوگئی۔غیر ملکی قرضے بین الاقوامی منڈی پر چھائے مہاجن ناقابل برداشت شرح سود پر فراہم کرتے ہیں۔ ہم جب اس کی ادائیگی کے قابل نہ رہیں تو دنیا کے سب سے فراخ دل اور غریبوں کے ہمدرد شمار ہوئے آئی ایم ایف نام کے ادارے سے رجوع کرنے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے کم از کم تین سالہ منصوبہ تیار کرنے کے بعد قسط وار رقوم ادا کرتا ہے۔ یہ رقم انتہائی کم شرح سود پر دی جاتی ہے۔ تقریباََ نہ ہونے کے برابر شرح سود پر رقم فراہم کرنے والا ادارہ مگر اپنی فیاضی کے سبب یہ اختیار حاصل کرلیتا ہے کہ آپ کے تیار کردہ بجٹ کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس میں کلیدی تبدیلیوں کا........

© Nawa-i-Waqt