menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈریگن اور عقاب کے درمیان ...

22 0
16.05.2026

دنیا کی سیاست میں بعض ملاقاتیں صرف تصویروں کیلئے نہیں ہوتیں وہ آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ تاریخ بعد میں ان پر کتابیں لکھتی ہے، مگر ان لمحوں میں دنیا صرف چند مسکراہٹیں، چند رسمی جملے اور ہاتھ ملاتے ہوئے رہنماؤں کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔ڈونلڈٹرمپ کا حالیہ دور چین بھی شاید ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ بظاہر یہ ایک سفارتی ملاقات تھی، مگر پس منظر میں ایران کا ایٹمی پروگرام، آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی تجارت، چین کی صنعتی بقا، امریکی معاشی دباؤ، تائیوان، مصنوعی ذہانت کی دوڑ اور نئی عالمی طاقت کی تقسیم سب ایک ہی میز پر موجود تھے۔ یہ ملاقات صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں تھی یہ دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش تھی اکیسویں صدی کی دنیا کو چلائے گا کون؟دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے سرد جنگ کے بعد امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا تھا سوویت یونین ٹوٹ گیا روس کمزور ہو گیا چین ابھی معاشی ابھار کے ابتدائی مرحلے میں تھا اس وقت واشنگٹن کو یقین تھا کہ دنیا کا نظام اب مستقل طور پر امریکی قیادت میں چلے گا مگر تاریخ کبھی ایک ہاتھ میں زیادہ دیر نہیں رہتی چین نے خاموشی سے بندرگاہیں خریدیں، سپلائی چین کنٹرول کی،منرل پر گرفت مضبوط کی، دنیا کی فیکٹری بن گیا اور پھر مصنوعی ذہانت کی جنگ میں داخل ہو گیاامریکہ کو شاید دیر سے احساس ہوا کہ چین صرف ایک سستا مینوفیکچرنگ ملک نہیں رہا وہ اب ایک متبادل عالمی مرکزِ طاقت بنتا جا رہا ہے اسی لیے ٹرمپ کا دورہ چین محض سفارتکاری نہیں تھا یہ دراصل طاقت کے نئے توازن پر مذاکرات تھے بحران کا اصل مرکز ایران نہیں، ہرمز ہے دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ اصل مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے لیکن حقیقت میں عالمی طاقتوں کی اصل فکر ‘‘آبنائے ہرمز’’ ہے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی معیشت لرز سکتی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان پر جا سکتی ہیں، یورپ صنعتی........

© Nawa-i-Waqt