menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مترس از آہ مظلوماں

27 0
15.05.2026

ہوتا کچھ یوں ہے کہ کچھ دیدہ، کچھ نادیدہ وجوہات کی بنا پر کوئی ایک سکینڈل زیادہ مشہور ہو جاتا ہے ، اس کی ہائپ بن جاتی ہے اور پھر ایسے انکشافات برآمد ہونے لگتے ہیں جن میں سے کوئی بھی انکشاف دراصل انکشاف نہیں ہوتا۔ یہی ماجرا ایلیٹ کلاس کی دیوی ماں انمول پنکی کا ہوا۔ کچھ پراسرار وجوہات کی بنا پر یہ سکینڈل سامنے لایا گیا۔ وہ دو عشروں سے ملک بھر میں ادارہ فروغ منشیات بنی ہوئی تھی، اب اچانک کیوں پکڑی گئی، اصل میں تو یہ بات منکشف ہونی چاہیے لیکن وہ نہیں ہو رہی اور ہو رہی اور ہو گی بھی نہیں۔ سندھ پنجاب اور وفاق کی حکومتیں اور عدلیہ کیوں اتنا عرصہ ادارہ فروغ منشیات کی سہولت کار بنی رہیں، اصل انکشاف تو یہ ہونا چاہیے جو نہیں ہو رہا۔ ___انکشاف کیا ہو رہے ہیں کہ ایلیٹ کلاس کے ہر طبقے کے لوگ ، پولیس افسر، جج، سیاستدان، شوبز کی صنعت، ٹی وی مالکان، صنعت کار، بڑے بڑے بیوروکریٹ، سماجی خدمت گار سبھی انمول پنکی کے بندہ ہائے بے دام تھے ۔ لیکن کیا یہ واقعی انکشاف ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے ہر بڑے جرم یا سلسلہ ہائے جرائم کے پیچھے یہی لوگ ہوتے ہیں۔ نئی بات کیا ہے ۔ جج حضرات پنکی کی ضمانتیں کیوں لیتے رہے ، اب اس کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواستیں کیوں مسترد کر رہے ہیں۔........

© Nawa-i-Waqt