menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امریکہ، ایران مذاکرات! ...

22 0
14.05.2026

ایران کی امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور اس کے بعد دیرپا امن کے لئے مذاکرات کی بات چلی تو میں بارہا دہرانا شروع ہوگیا کہ پاکستان مذکورہ عمل کا سہولت کا ر ہے ثالث نہیں۔ بے شمار دوستوں کو ثالثی اور سہولت کاری کے مابین فرق رکھنے کی فریاد پسند نہ آئی۔ حب الوطنی کے چند خود ساختہ اجارہ داروں نے بلکہ الزام لگایا کہ دو ٹکے کا یہ صحافی مادرِ وطن کو ’’ثالث‘‘ کے لئے مختص تکریم ملنے سے خوش نہیں۔ اسے ’’سہولت کار‘‘ کی سطح پر ’’گرا‘‘ رہا ہے۔ دل خوش فہم محض امید ہی باندھ سکتا ہے کہ گزشتہ دو دنوں سے امریکہ کے طاقتور نشریاتی ادارے سی بی ایس (CBS)کی جانب سے پاکستان کو جس انداز میں رپورٹ کیا جارہا ہے اس سے آگہی کی بدولت دوست جان چکے ہوں گے کہ میں اپنے ملک کو ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ’’ثالثی‘‘ کی ’’ذمہ داری‘‘ سے کیوں بچانا چاہ رہا تھا۔متحارب فریقین کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے لازمی ہے کہ آپ انہیں معقول شرائط تسلیم کرنے کو رضا مند کرنے کے لئے بوقت ضرورت تھوڑی تڑی بھی لگاسکیں۔ ’’ثالثی‘‘ ایک نوعیت کی ’’چودھراہٹ‘‘ ہے اور پنچائت کے سرپنج چودھری کو صلح کی معقول شرائط نہ ماننے والے کا حقہ پانی بند کرنے کا اختیار میسر ہوتا ہے۔مسلم اْمہ کا واحد ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان بے تحاشہ آبادی کا حامل ایک غریب اور مقروض ملک ہے۔ امریکہ دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار ہے۔ آئی ایم ایف جیسے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہمیں دیوالیہ سے بچانے کے لئے اس کے اشارے کا انتظار کرتے ہیں۔ ایران ایک قدیم تہذیب اورسلطنت کا وارث ہونے کے علاوہ تیل اور گیس کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ فروری 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ دنیا بھر کی جانب سے لگائی اقتصادی پابندیوں کے باوجود وقار سے زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا ہے۔ بطور ’’ثالث‘‘ امریکہ یا ایران کو بوقت ضرورت ’’بندے داپتر‘‘ بننے کو مجبور کرنے کے لئے پاکستان کے پلے کچھ نہیں۔ اسی باعث ’’ثالث‘‘ کہلوانے سے گریز کو ترجیح دینا ضروری سمجھا تھا۔پاکستان کو بطور ’’ثالث‘‘ ابھرتا دیکھ کر........

© Nawa-i-Waqt