برِصغیر کے دہانے پر کھڑی ...
دنیا کی تاریخ میں کچھ خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں صرف سرحدیں نہیں جلتی ہوتیں ، وہاں نسلوں کے خواب، تہذیبوں کی سانسیں اور آنے والے زمانوں کی تقدیریں بھی داؤ پر لگی ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیا آج ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں، دو زخمی تاریخیں، دو مختلف نظریات ایک بار پھر ایسے ماحول میں داخل ہو رہی ہیں جہاں صرف ایک غلط فیصلہ، ایک اشتعال انگیز حملہ، یا ایک جذباتی بیان پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتا ہے ۔عالمی مبصرین، دفاعی ماہرین، سفارتی حلقے اور بین الاقوامی میڈیا مسلسل اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ برِصغیر میں کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ‘‘محدود تنازع’’ بھی مکمل جنگ میں بدل سکتا ہے ۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں بارود صرف زمین کے نیچے نہیں، دلوں کے اندر بھی دفن ہے۔سن2014کے بعد بھارت کی سیاست میں جو تبدیلی آئی، اس نے پورے خطے کی سمت بدل دی۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف اقتدار حاصل نہیں کیا بلکہ قومی بیانیے، ریاستی ترجیحات اور خارجہ پالیسی کے زاویے بھی بدل ڈالے۔بھارت کے اندر ہندوتوا نظرئیے کی بڑھتی ہوئی طاقت نے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید تلخ ہوتے گئے۔کئی عالمی تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت اب خود کو صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک عالمی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ۔ اسی مقصد کے لیے اس نے امریکہ، اسرائیل اور مغربی دنیا کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو غیر معمولی حد تک مضبوط کیا۔ اسرائیل سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون اور سکیورٹی ماڈلز نے بھارتی پالیسیوں کو نئی جہت دی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد صرف دفاعی نوعیت کا ہے؟ یا پھر اس کے پیچھے جنوبی ایشیا کے جغرافیے کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوئی بڑی سوچ بھی کارفرما ہے؟ بعض مغربی تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کشمیر، پانی، سرحدی تنازعات، مذہبی انتہا پسندی، اور اطلاعاتی جنگ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی وقت بڑے تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔ آج جنگیں صرف ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں لڑیں جاتیں، بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا، سائبر حملوں، معیشت اور........
