menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

میاں طفیل محمد کا دور ، ...

17 0
07.05.2026

جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے امارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو جماعتِ اسلامی ایک ایسے موڑ پر کھڑی تھی جہاں فکر مضبوط تھی مگر راستہ پیچیدہ۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں نظریہ زمین پر اتر کر عملی سیاست ، ریاستی دباؤ، اور عوامی آزمائش سے ٹکرانے والا تھا۔ اسی مرحلے میں قیادت سنبھالی: میاں طفیل محمدنےان کا انداز مولانا مودودیؒ سے مختلف تھا۔ وہ خطیب کم، منتظم زیادہ تھے۔ وہ نظریاتی بحث سے زیادہ تنظیمی استحکام اور عملی حکمت عملی پر یقین رکھتے تھے اور شاید وقت کو یہی درکار تھا ایک خاموش مگر مضبوط قیادتمیاں طفیل محمد کا دور ( 1972ء تا 1987ء ) شور سے نہیں، بلکہ خاموش تعمیر سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان ٹوٹ چکا تھا (1971ء ) قوم مایوسی کا شکار تھی اور سیاست شدید انتشار میں تھی ایسے میں جماعت اسلامی کو صرف نظریہ نہیں، بلکہ بقا اور توازن کی ضرورت تھی۔تنظیمی استحکام ،ایک نظر نہ آنے والی کامیابیاگر اس دور کی سب سے بڑی کامیابی پوچھی جائے، تو وہ شاید یہ ہو جماعت کو ٹوٹنے نہیں دیا گیا یہ معمولی بات نہیں تھی۔........

© Nawa-i-Waqt