تیسری خلیجی جنگ اور ...
دو خلیجی جنگیں عراق کے ساتھ ہوئیں اور اب یہ تیسری خلیجی جنگ ہے جو ایران کے ساتھ امریکہ کر رہا ہے اور بات یوں بڑھ گئی ہے کہ اب ٹرمپ نے اعلان کر کے کہ وہ ضرورت پڑنے پر ایران میں فوجیں اْتار سکتے ہیں، دراصل بتا دیا ہے کہ جنگ زمینی بھی ہو گی۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مقاصد پورے ہونے تک جنگ جاری رہے گی۔ ایک مقصد تو امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے پہلے دن ہی حاصل کر لیا تھا ، یہ کہ پوری ایرانی قیادت بشمول رھبر اعلیٰ علی خمنائی کو ختم کر دیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں امریکی مہارت کا اتنا ہاتھ نہیں تھا جتنا مخبروں کے تعاون کا، جنہوں نے ٹھیک ٹھیک مخبری کر دی تھی کہ اتنے بجے رھبر اعلیٰ کے کمپائونڈ میں پوری قیادت کا اجلاس ہو رہاہے اور صرف یہی نہیں ، بعد ازاں حب ملبہ اٹھایا گیا تو خامنائی صاحب کے جسد خاکی کونکالنے کی تصویر بھی صدر ٹرمپ کو بھیج دی۔ چہ دلاور است مخبرے…اور ایران میں مخبری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حماس کے قائد اسمٰعیل ھنیہ سے لے کر ایران مائنس والوں اور جرنیلوں تک کے ایک ایک کے حساب سے ٹھیک ٹھیک ٹھکانے، ٹھکانہ بدلنے، گھر سے نکلنے کے کتنے ہی واقعات مخبری کے پہلے ہو چکے۔ دشمن دار ملکوں میں باہم جاسوس ہوتے ہیں لیکن اتنے نہیں جتنے ایران میں ہیں اور لگتا تو یہ ہے کہ مخبری اب بھی جاری ہے، میزائلوں کے خفیہ لانچنگ پیڈ اورسٹور مسلسل بمباری سے تباہ ہو رہے ہیں تو یہ مخبروں ہی کے کارنامے ہیں۔ ___جنگ میں ایران کو ہمدردوں کی ضرورت تھی لیکن اس نے عرب ملکوں پر مسلسل حملے کر کے خود کو مزید تنہا کر لیا ہے بلکہ تنہا ترین کر لیا ہے۔ کہا تو یہ گیا تھا کہ صرف امریکہ کے اڈوں پر حملے ہوں گے لیکن اس نے تو ائیر پورٹس، ہوٹلوں، رہائشی کالونیوں، سڑکوں ، ائیر پورٹس اور آئل ریفائنریوں پر بے تکان میزائل اور ڈرون داغے اور عرب رائے عامہ میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف جو فضا تھی، اسے ختم کر ڈالا۔ ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ دورحاضر کی جنت شداد بھی اجڑ گئی۔ جہاں یورپ بھر سے، برصغیر سے، پاکستان سے بے پناہ سرمایہ کار آ کر رئیل اسٹیٹ خرید رہے تھے، اب سب وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ اور تو اور امریکی بھی وہاں سے بھاگ نکلے۔ جنت شداد کی بہار بھی جشن چند روزہ ثابت ہوئی۔ ___پاکستان میں ردّعمل عوام کا امریکہ و اسرائیل کے خلاف ہی ہونا تھا اور ہوا لیکن بھارت وغیرہ کی پراکسیز نے اس ردّعمل کو پاکستان پر حملے میں بدل ڈالا اور یوں عوامی ردّعمل دب کررہ گیا۔ یہ کس نے کس کی خدمت کی۔ گلگت سکردو میں ان پراکسیزنے عوامی مظاہروں کارخ پاکستان کے خلاف کر ڈالا ، فوج کی عمارتوں، آرمی پبلک سکول اور اقوام متحدہ کے کشمیر مشن کے دفاتر نذر آتش کر دئیے گئے۔ ان عمارتوں کا ، ایران پر حملے سے کیا تعلق تھا۔ قانون نافذ کرنیوالوں کو فائرنگ کرنا پڑی۔ ان عناصر نے آزاد کشمیرمیں بھی یہی کھیل کھیلا تھا۔ آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ میں یہ اعلان حوصلہ افزا ہے کہ گلگت سکردو میں فوج اور فوجی عمارتوں پر مسلح حملہ آوروں کی تلاش کی جائے گی۔ پاکستان نے بطور ریاست اس بحران میں بالکل درست، محتاط اور متوازن پالیسی اپنائی ہے اور ان لوگوں کو بھی ریاست پاکستان نے درست جواب دیا ہے جو خدشہ ظاہر کرنے کی آڑ میں دراصل اپنا خبث دروں اور ارمان ظاہر کر رہے ہیں کہ اگلی باری پاکستان کی ہے۔ اگلی باری پاکستان کی نہیں، اپنی ’’منوکامنا‘‘ بتانے والے ان عناصر کی ہے جو پاکستان پر دلی نفرت جھاڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ___اسی المیے کا ایک حصہ کراچی میں بھی رونما ہوا جہاں ’’پراکسیز‘‘ نے پرامن جلوس کا رنگ ڈھنگ بدل کر امریکی سفارتی عمارت پر دھاوا بول دیا اور آتشیں ہتھیاروں سے اس کے اندر گھس کر فائرنگ کر دی۔ جوابی فائرنگ میں پھر کئی مارے گئے۔ اس سانحے میں سندھ حکومت پوری طرح قصور وار ہے جس نے مظاہرین کو بے روک ٹوک امریکی قونصل خانے کی طرف جانے دیا بلکہ پولیس ان کی سہولت کار بنی رہی۔ بات نے خونی رخ اختیار کیا تو پولیس کو ہوش آیا۔ بروقت بے ہوش اور بعد از وقت ہوش میں آنے والی اس پولیس فورس کے افسروں اور سندھ حکومت کی باز پرس تو ہونی ہی چاہیے۔ ___کچھ عرصے سے مجرموں یا مبینہ مجرموں کے حوالے سے کچھ ماورائے عدالت ’’فیصلے‘‘ ہو رہے ہیں۔ مجرم یا مبینہ مجرم کو تفتیش کیلئے کہیں لے جایا جا رہا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھی آ کر فائرنگ کرتے ہیں اور یوں معاملہ نمٹ جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ فیصل آباد کے ایک مجرم کے ساتھ بھی پیش آیا جس نے اپنی ’’ہلاکت‘‘ سے پہلے ایک انوکھی فرمائش کی۔ یہی فرمائش اس کا ذکر کرنے کی وجہ بنی۔ ایک ’’ڈان‘‘ شفقت بھٹی نے -13 افراد کو قتل کیا جن میں ایک 80 سال کا بزرگ بھی شامل تھا۔ وجہ قتل اپنی چودھراہٹ کیخلاف زبان دراز احتجاج تھا۔ پولیس اسے تحفظ دیتی تھی لیکن اس پر دبائو آیا تو وہ باہر کے کسی ملک فرار ہو گیا۔ وہاں بیٹھ کر اس نے اپنے کارندوں سے ڈرا دھمکا کر مقتولین کے خاندانوں کو صلح نامے پر راضی کر لیا اور جب صلح نامہ ہو گیا تو واپس آ گیا اور ایئر پورٹ پر ایک پیغام وزیر اعلیٰ کے نام ریکارڈ کرایا کہ میری صلح ہو گئی ہے، مجھے گرفتارنہ کیا جائے بلکہ مجھے انصاف دیا جائے۔ اس دوران وہ خلاف قانون، خلاف ضابطہ ضمانتی راہداری بھی عدالت سے حاصل کر چکا تھا (خود عدالت میں پیش ہوئے بغیر)۔ یہ انوکھی فرمائش تھی۔ -13 افراد کو ’’بلاوجہ‘‘ قتل کرنے والا اپنے لئے کس انصاف کی فرمائش کر رہا تھا۔خیر، اسے گرفتار کر لیا گیا اور اگلے ہی دن اس کے ’’ساتھیوں نے فائرنگ‘‘ کر کے اسے انصاف دے دیا۔ اس پر حسب معمول تنقید ہوئی کہ یہ ماورائے عدالت قتل ہے۔ بالکل بجا۔ ماورائے عدالت قتل کی حمایت تو کی ہی نہیں جا سکتی۔ لیکن ذرا غور فرمائیے، ماورائے عدالت کے بجائے ’’باورائے عدالت‘‘ معاملہ کیا ہوا۔ پہلے ملزم کی دائمی ضمانت ہوتی ، پھر وہ تہرے قتل سے بری ہو جاتا۔ بری ہونے کے بعد وہ پھر تیرہ قتل کرتا اور پھر ان میں بھی بری ہو جاتا۔ یہی تو چلی آ رہی ہے اور نہ جانے کب تک چلتی جائے گی۔
