ایک قوم، ایک ذمہ داری
قوم کا بڑا کون بنے گا جو قوم کا بڑا بن کے قوم کی رہنمائی کرے اور مشکلات سے آگاہی دے جو کہے بیٹا میں نے زمانے بدلتے دیکھے ہیں، سلطنتیں بنتی اور بکھرتی دیکھی ہیں، مگر ایک بات کبھی نہیں بدلی کہ جو قوم اپنی حفاظت کا عزم کر لے، اسے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ افواج پاکستان اس مٹی کی امانت ہیں، وہ ہر قربانی کے لیے تیار کھڑی ہیں، مگر یاد رکھو فوج اکیلی جنگ نہیں جیتتی، قوم ساتھ کھڑی ہو تو دفاع مکمل ہوتا ہے ۔ دشمن ہمیشہ باہر سے ہی نہیں آتا، کبھی وہ ہمارے دلوں میں شکوک بن کر، زبانوں پر نفرت بن کر اور سوشل میڈیا پر افواہ بن کر داخل ہوتا ہے ۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا، مگر اختلاف کو دشمن کے ہاتھ میں ہتھیار بننے دینا سب سے بڑی نادانی ہے۔ دنیا میں طاقتور ملک اپنے مفاد کے لیے کھیل کھیلتے ہیں، مگر زندہ قومیں وہ ہیں جو اپنے مفاد کو پہچان لیں۔ ایران کی مثال سامنے ہے، قیادت پر حملے ہوئے، بڑے بڑے نام شہادت تک پہنچا دئیے گئے، مگر قوم بکھری نہیں ۔ اندرونی بحثیں اپنی جگہ رہیں مگر بیرونی خطرے کے سامنے سب ایک صف میں آ کھڑے ہوئے۔ یہی شعور ہمیں بھی اپنانا ہو گا ۔ بیٹا ملک ہو گا تو ہم سب ہوں گے، اگر خدانخواستہ کمزور ہوا تو نہ کوئی جماعت بچے گی نہ کوئی نظریہ۔ محبت سے کہتا ہوں، اختلاف رکھو مگر وطن پر آنچ نہ آنے دو، ورنہ تاریخ معاف نہیں کرتی۔میرے بچو، یہ دنیا سادہ نہیں ہے، یہاں محاذ صرف سرحدوں پر نہیں بنتے، ذہنوں میں بھی بنتے ہیں۔ افغانستان، ہندوستان، اسرائیل یا کوئی اور ملک، سب اپنے اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں ہر طرف سے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، مگر سب سے بڑا خطرہ وہ ہے جو ہمیں اندر سے کمزور کرے۔ جب قوم تقسیم ہو جائے تو دشمن کو محنت نہیں کرنی پڑتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سوال نہ کرو، ضرور کرو، مگر سوال ایسے ہوں جو مضبوطی لائیں، کمزوری نہیں۔ یاد رکھو فوجی جوان اپنی جان اس لیے قربان کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کھڑی قوم متحد ہو۔ اگر ہم آپس میں دست و گریباں ہوں گے تو اس کی قربانی کا وزن اور بڑھ جائے گا۔ محبت سے سمجھاتا ہوں، سوشل میڈیا کے ہر پیغام کو سچ نہ مانو، ہر خبر پر ردعمل دینے سے پہلے سوچو کہ اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔ قومیں جذبات سے نہیں، شعور سے زندہ رہتی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو نفرت نہیں، ذمہ داری سکھانی ہے۔ خطرات حقیقی ہیں، مگر ان سے بڑا ہمارا عزم ہو تو کوئی ہمیں جھکا نہیں سکتا۔ سن لو میرے عزیزو، جنگ صرف بندوق سے نہیں لڑی جاتی، نظرئیے، صبر اور اتحاد سے بھی لڑی جاتی ہے۔ ایران امریکہ اسرائیل اور ہندوستان جیسے محاذوں کے باوجود اگر ڈٹا رہتا ہے تو اس کی وجہ صرف اسلحہ نہیں، بلکہ قومی یکجہتی ہے۔ وہ اپنے شہداء کو روتا بھی ہے اور ان کے مشن کو زندہ بھی رکھتا ہے۔ ہمیں بھی یہی توازن سیکھنا ہو گا ۔ جذبات میں بہہ کر اپنے ہی اداروں کو کمزور کرنا دانشمندی نہیں۔ تنقید ضرور کرو مگر دشمن کے بیانیے کا حصہ نہ بنو۔ میں ڈرا نہیں رہا، بس خبردار کر رہا ہوں کہ وقت نازک ہو تو زبان اور قلم دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ اندرونی اختلافات کو گھر کی چار دیواری میں حل کرو، باہر کی دنیا کو یہ پیغام دو کہ ہم ایک ہیں۔ یاد رکھو، اگر ہم نے خود کو سنبھال لیا تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور اگر ہم نے خود کو ہی تقسیم کر لیا تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آؤ عہد کریں کہ محبت، شعور اور اتحاد کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کریں گے، کیونکہ ملک ہے تو ہم سب ہیںبیٹا ذرا قریب بیٹھو، میں تمہیں کوئی جوشیلا نعرہ نہیں سنانے لگا، میں تم سے دل کی بات کرنے لگا ہوں۔ میں نے وقت کے کئی رنگ دیکھے ہیں، میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب قومیں نعرے لگا کر خوش ہو جاتی تھیں اور وہ دن بھی دیکھے ہیں جب خاموشی سے اپنے اندر جھانک کر خود کو بدلتی تھیں۔ یاد رکھو، نعرہ لگانا آسان ہے، قوم بننا مشکل ہے۔افواج پاکستان اس مٹی کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، اس میں شک کی گنجائش نہیں۔ جوان سرحد پر کھڑا ہے تو وہ صرف ایک وردی نہیں پہنے ہوتا، وہ اپنے پیچھے کروڑوں لوگوں کا یقین پہنے ہوتا ہے۔ مگر بیٹا، یقین صرف تقریروں سے نہیں بنتا، کردار سے بنتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج مضبوط ہو، تو ہمیں بھی اپنے حصے کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ قوم صرف ٹیکس دینے یا جھنڈا لہرانے سے نہیں بنتی، قوم اپنے رویوں سے بنتی ہے۔میں تمہیں ایک بات سمجھانا چاہتا ہوں، دشمن ہمیشہ گولی سے حملہ نہیں کرتا۔ کبھی وہ افواہ سے حملہ کرتا ہے، کبھی فرقہ واریت سے، کبھی لسانیت سے، کبھی سوشل میڈیا کے زہریلے پیغامات سے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر قوم کے دلوں میں دراڑ ڈال دی جائے تو سرحد پر کھڑی فوج بھی دباؤ میں آ جاتی ہے ۔ اس لیے سب سے پہلے اپنے دل کو صاف کرو۔ اختلاف رکھو ، ضرور رکھو ، مگر نفرت نہ پالو ۔ اختلاف اگر دلیل سے ہو تو طاقت بنتا ہے، اگر انا سے ہو تو کمزوری بن جاتا ہے۔تم دیکھتے ہو کہ خطے میں حالات کس طرح بدل رہے ہیں۔ افغانستان اپنی مشکلات سے گزر رہا ہے، ہندوستان اپنے مفادات کے ساتھ کھڑا ہے، اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیاں اپنی جگہ موجود ہیں ۔ یہ سب ممالک اپنے مفاد کے لیے فیصلے کرتے ہیں، وہ ہماری جذباتی تقریروں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ طاقت، معیشت، ٹیکنالوجی اور اتحاد کو دیکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ ہم اپنے اندر کیا مضبوط کر رہے ہیں؟ایران کی مثال دی جاتی ہے کہ قیادت پر حملے ہوئے، اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، مگر قوم کھڑی رہی ۔ اس میں ایک سبق ہے۔ سبق یہ نہیں کہ صرف جذباتی ہو جاؤ، سبق یہ ہے کہ اندرونی اختلافات کے باوجود بیرونی خطرے کے سامنے ایک صف میں آ جاؤ۔ وہ اپنے شہداء کو یاد کرتے ہیں، مگر اداروں کو کمزور نہیں کرتے۔ ہمیں بھی یہی توازن سیکھنا ہوگا۔بیٹا، سب سے پہلے اپنے گھر سے آغاز کرو۔ اپنے بچوں کو یہ سکھاؤ کہ وطن محبت کا نام ہے، نفرت کا نہیں۔ انہیں سکھاؤ کہ اختلاف کرنا گناہ نہیں، مگر اپنے ہی اداروں کو گرانا دانشمندی نہیں۔ اگر تم سوشل میڈیا پر ہو تو ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے سوچو، کیا یہ خبر تصدیق شدہ ہے؟ کیا اس سے قوم مضبوط ہوگی یا کمزور؟ دشمن تمہارے ہاتھ سے تمہارے ہی ملک کے خلاف مواد پھیلوا دے، اس سے بڑی سادگی کیا ہوگی؟دوسری بات، معیشت۔ بیٹا جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی، معیشت سے بھی جیتی جاتی ہے۔ اگر ہم ٹیکس چوری کریں، اگر ہم بدعنوانی کو معمول سمجھ لیں، اگر ہم محنت سے زیادہ شارٹ کٹ کو ترجیح دیں تو ہم خود اپنی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں ۔ مضبوط فوج کے پیچھے مضبوط معیشت ہوتی ہے ۔ اس لیے اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرو ۔ چاہے تم استاد ہو، ڈاکٹر ہو، تاجر ہو یا مزدور، اپنے کام میں دیانت لاؤ۔ یہی تمہارا دفاعی کردار ہے۔تیسری بات، اتحاد۔ یاد رکھو، فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائیت وہ آگ ہے جو باہر سے نہیں اندر سے لگتی ہے۔ دشمن صرف ہوا دیتا ہے۔ ہمیں اس آگ کو بجھانا ہے۔ اگر کوئی تمہیں کسی دوسرے صوبے یا مسلک کے خلاف بھڑکائے تو سمجھ جاؤ کہ وہ تمہارا خیر خواہ نہیں۔ قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے اختلافات کو برداشت کرنا سیکھ لے۔میں تمہیں ڈرا نہیں رہا، مگر خبردار ضرور کر رہا ہوں۔ وقت بدل رہا ہے۔ جنگیں اب ہائبرڈ ہو چکی ہیں۔ میڈیا، معیشت، سفارت کاری، سائبر دنیا سب محاذ ہیں۔ اگر تم تعلیم یافتہ ہو تو اپنی تعلیم کو ملک کے لیے استعمال کرو۔ اگر تم بیرون ملک ہو تو اپنے کردار سے اپنے ملک کا نام روشن کرو۔ اگر تم نوجوان ہو تو اپنی توانائی کو مثبت راستے میں لگاؤ، منفی پروپیگنڈے کا ایندھن نہ بنو۔اور ہاں، تنقید ضرور کرو۔ تنقید زندہ قوم کی نشانی ہے۔ مگر تنقید اصلاح کے لیے ہو، تضحیک کے لیے نہیں۔ اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرو، مگر انہیں گرانے کی بات نہ کرو۔ یاد رکھو، ادارے کمزور ہوں گے تو خلا پیدا ہوگا، اور خلا کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی طاقت پْر کر دیتی ہے، چاہے وہ ہمارے حق میں ہو یا خلاف۔بیٹا، محبت سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب قوم اپنے شہداء کے خاندانوں کا خیال رکھتی ہے، جب وہ اپنے سپاہی کی عزت کرتی ہے، جب وہ اپنے اختلاف کو بھی شائستگی سے بیان کرتی ہے، تب وہ ناقابلِ شکست ہو جاتی ہے۔ ہمیں جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تعلیم میں بہتری، انصاف کی فراہمی، کرپشن کا خاتمہ، قانون کی بالادستی ، یہی اصل دفاع ہے۔آخر میں بس اتنا کہوں گا، ملک ہے تو ہم سب ہیں۔ اگر ہم نے اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی تو نقصان سب کا ہوگا۔ اور اگر ہم نے اتحاد، شعور اور ذمہ داری کو اپنا لیا تو کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکے گی۔ اپنے دل کو صاف رکھو، اپنی نیت کو درست رکھو، اپنے عمل کو مضبوط رکھو۔ محبت سے کہتا ہوں، بیدار رہو، متحد رہو، اور اپنے وطن کو صرف نعروں سے نہیں، کردار سے مضبوط کرو۔ یہی ہماری اصل قربانی ہے، یہی ہماری اصل ذمہ داری ہے۔
