پاکستان میں اپوزیشن کوئی بھی ہو سب کا مسئلہ ہر دور میں مشترک ہی رہا ہے۔ اپوزیشن میں کوئی بھی ہو اس نے ہمیشہ نظام کو چلانے میں مدد کرنے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کرنے کو پسند کیا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو اپوزیشن میں ہو اور وہ حکومت کو کم از کم قومی معاملات اور ملکی مسائل پر ہی متحد ہو جائیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے۔ حکومت میں آنے والے خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور باہر رہ جانے والے ہر وقت مظلوم کا روپ دھارتے ہوئے کروڑوں انسانوں کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا اور آج بھی جب ملک شدید معاشی مشکلات سے گذر رہا ہے۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، ایک گھر میں ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایک سے زیادہ افراد کو کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے، معاشی مشکلات کی وجہ سے انسانوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، آمدن اور اخراجات میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے اضافی کام کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے ذہنی صحت بھی بہت شدت کے ساتھ متاثر ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، جہاں ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے وہیں ملک کو انسانوں کے شدید مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ آپ روزانہ ملکی مسائل پر گھنٹوں مذاکرات اور مباحثوں کو سنتے دیکھتے ہیں، ملک کے سیاسی و معاشی حالات پر گفتگو ہوتی ہے لیکن کہیں یہ گفتگو نہیں ہوتی کہ کون ہے جو کروڑوں انسانوں کے ذہنی و جسمانی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکمران صرف سیاست اور معیشت کو روتے رہیں جن کے لیے سیاست و معیشت کو ٹھیک کرنا ہے ان کے لیے بھی فوری طور پر کوئی آسانی ہونی چاہیے یا نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ معیشت و سیاست کو سدھارتے سدھارتے شہریوں کی ذہنی و جسمانی حالت اتنی کمزور ہو جائے، نفسیاتی مسائل اس حد تک بڑھ جائیں کہ ہمیں ایک سانحے کا سامنا ہو۔ گوکہ اس حوالے سے کوئی نہیں سوچتا نہ اس پہلو کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سب اپنی رنجشوں کو نبھانے، بدلہ لینے اور ایک دوسرے کو دبانے کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہماری حکومتیں نمائشی منصوبوں کی طرف توجہ دیتی ہیں لیکن بنیادی مسائل پر نہ تو ایمانداری کے ساتھ وسائل خرچ ہوتے ہیں نہ ہی دیانت داری کے ساتھ کام ہوتا ہے، نہ ہی ہدف یہ ہوتا ہے کہ کروڑوں انسانوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنی ہے، پیٹرولیم مصنوعات سستی کرتے ہیں اور بجلی مہنگی کر دیتے ہیں، آٹا سستا کرتے ہیں گیس مہنگی کر دیتے ہیں، یہ مثال دی ہے ایسے کئی کام ہیں جہاں حکومت ایک طرف سے سہولت دیتی ہے تو دوسری طرف سے خون چوس لیتی ہے۔ جہاں رعایت ملتی ہے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور جہاں سے خون چوسا جاتا ہے اس پر کوئی بات بھی نہیں کرتا۔ سہولت تو یہ ہے کہ آمد و اخراجات میں توازن قائم کرنے کی حکمت عملی پر کام ہو اور لوگوں کو پائیدار سہولت میسر ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
آج بھی آپ دیکھ لیں ہر جگہ سیاسی مسائل پر بحث، وقت اور وسائل صرف ہو رہے پیں انسان، بے بس شہری اور ہر سانس تکلیف میں لینے والے کروڑوں انسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور ان پر کسی کی توجہ بھی نہیں، البتہ ان کمزور، پریشان، وسائل سے محروم، سسکتے انسانوں کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ حکومت مہنگائی میں کمی کا دعوی کرتی ہے لیکن کیا اس کمی سے زندگی آسان ہو سکتی ہے جب ایک چیز سستی کر کے دوسری مہنگی کر دی جائے۔
خبر یہ ہے مئی کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں 3.24 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ شماریات کی طرف سے جاری ماہانہ رپورٹ کیمطابق مئی میں مہنگائی کم ہو کر 11.76 فیصد کی شرح پر آئی ہے، شہروں میں مہنگائی 2.80 فیصد اور دیہی علاقوں میں 3.89 فیصد کم ہوئی۔ گذرے ماہ شہری علاقوں میں ٹماٹر اور پیاز 51 فیصد تک سستے ہوئے، زندہ مرغی 35.28 فیصد گندم 20.17 فیصد سستی ہوئی،گندم کا آٹا 20.12 فیصد، پھل اورسبزیاں آٹھ فیصد تک سستی ہوئیں،ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مئی میں آلوکی قیمت میں 14.73فیصدتک اضافہ ریکارڈ کیا گیا،گزشتہ ماہ گوشت 4 فیصد سے زائد اورگھی 1.27 فیصد مہنگا ہوا۔رپورٹ کیمطابق ٹرانسپورٹ اورطبی سہولتوں میں 3،3، انڈوں کی قیمت میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،اپریل کی نسبت مئی میں ڈینٹل سروس 15 فیصد، ڈاکٹر فیس 5 فیصد مہنگی ہوئی۔ رپورٹ کیمطابق ایک سال کے دوران مشروبات 24 فیصد اور خشک میوے 23 فیصد مہنگے ہوئے،گزشتہ سال کی نسبت دال ماش 22 فیصد جبکہ چینی 19 فیصد مہنگی ہوئی،ایک سال میں خشک دودھ22،مٹھائی 16،دال مسور 15 فیصد مہنگی ہوئی، ایک سال میں بیکری 11،گیس 318،بجلی 59 اور ٹرانسپورٹ 32 فیصد مہنگی ہوئیں۔
یہ اعدادوشمار خانہ پری کے لیے تو ٹھیک ہو سکتے ہیں لیکن مسائل کے پائیدار حل کی طرف بڑھنے کے راستے میں سیاسی جماعتیں حائل ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمن کی جماعت حکومت کا ساتھ نہ دے تو نقصان کس کا ہے، اگر پاکستان تحریک انصاف سڑکوں پر رہے، احتجاج کی منصوبہ بندی کرتی رہے تو نقصان کس کا ہے۔ کیا احتجاج کی سیاست سے ملکی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے،
جمعیت علما اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ کے مطابق "جے یو آئی حکومت کا حصہ بنے گی اور نہ ہی حکومت کو سپورٹ کرے گی۔ موجودہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے، موجودہ حکومت کا مستعفی ہونا ضروری ہے، جے یوآئی کا مطالبہ ہے کہ ازسر نو انتخابات کرائے جائیں۔ جے یو آئی حکومت کا حصہ بنے گی اور نہ ہی حکومت کوسپورٹ کرے گی پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ تحریک چلانے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا، پی ٹی آئی سے کئی سال سے اختلافات ہیں، وہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر مولانا فضل الرحمان کے پاس آئے تو ہم نے خوش آمدید کہا۔"
اب ان حالات میں جب ملک میں افراتفری ہو تو کیا سرکاری ہو گی، کیا کاروبار ہو گا، کیا استحکام ہو گا۔ کیا یہ ساری چیزیں ایک دوسرے جڑی نہیں ہیں۔ بات صرف جے یو آئی کی ہی نہیں ہے پاکستان تحریک انصاف بھی سڑکوں پر نکلنے کی تیاریوں میں ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے آٹھ جون کو روات کے بجائے سوات میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سو دیکھیں جس طرح عدالتوں میں سیاسی قیادت پر مقدمات ہیں، جس برے طریقے سے پاکستان کی سیاسی قیادت بدقسمتی سے قومی معاملات پر بھی تقسیم ہے اس کے بعد ملک میں کسی بھی قسم کے استحکام کا خواب تو خواب ہی رہے گا۔
آخر میں پیر سید نصیر الدین نصیر کا کلام
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا
ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا
شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا
وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا
کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا
چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن
جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا
وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیر ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا یتیم بچوں کو عید پر بکرے دینے کا اعلان

QOSHE - ایک مرتبہ پھر احتجاج کی سیاست اور ملکی مسائل!!! - محمد اکرم چوہدری
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک مرتبہ پھر احتجاج کی سیاست اور ملکی مسائل!!!

12 0
04.06.2024


پاکستان میں اپوزیشن کوئی بھی ہو سب کا مسئلہ ہر دور میں مشترک ہی رہا ہے۔ اپوزیشن میں کوئی بھی ہو اس نے ہمیشہ نظام کو چلانے میں مدد کرنے کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کرنے کو پسند کیا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو اپوزیشن میں ہو اور وہ حکومت کو کم از کم قومی معاملات اور ملکی مسائل پر ہی متحد ہو جائیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے۔ حکومت میں آنے والے خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور باہر رہ جانے والے ہر وقت مظلوم کا روپ دھارتے ہوئے کروڑوں انسانوں کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا اور آج بھی جب ملک شدید معاشی مشکلات سے گذر رہا ہے۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، ایک گھر میں ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایک سے زیادہ افراد کو کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے، معاشی مشکلات کی وجہ سے انسانوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، آمدن اور اخراجات میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے اضافی کام کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے ذہنی صحت بھی بہت شدت کے ساتھ متاثر ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے، جہاں ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے وہیں ملک کو انسانوں کے شدید مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ آپ روزانہ ملکی مسائل پر گھنٹوں مذاکرات اور مباحثوں کو سنتے دیکھتے ہیں، ملک کے سیاسی و معاشی حالات پر گفتگو ہوتی ہے لیکن کہیں یہ گفتگو نہیں ہوتی کہ کون ہے جو کروڑوں انسانوں کے ذہنی و جسمانی مسائل پر توجہ دیتے ہوئے انہیں حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکمران صرف سیاست اور معیشت کو روتے رہیں جن کے لیے سیاست و معیشت کو ٹھیک کرنا ہے ان کے لیے بھی فوری طور پر کوئی آسانی ہونی چاہیے یا........

© Nawa-i-Waqt


Get it on Google Play