ملک میں سیاسی درجہ حرارت کسی طور کم ہونے میں نہیں آ رہا، سیاسی شخصیات تہیہ کر چکی ہیں کہ ملک کو چلنے نہیں دینا، سب اپنی اپنی سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے کام کر رہے ہیں، پارلیمنٹ میں موجود افراد بیک وقت ریاستی اداروں کو سیاسی معاملات میں ملوث کر رہے ہیں، کچھ ماضی کے واقعات کو یاد کروا رہے ہیں تو کچھ آج ریاستی اداروں کو مداخلت کے لیے اکسا رہے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر سیشن میں ہر روز ہر وقت الزامات لگتے ہیں، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا جاتا ہے، الزام تراشی ہوتی ہے، ایسے معاملات جس کا عام آدمی کی زندگی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے ان معاملات پر گھنٹوں تقاریر ہوتی ہیں۔ روز یہی تماشہ ہوتا ہے۔ ملک کے کروڑوں لوگ پارلیمنٹ سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں لیکن نہ انہیں ماضی میں اس پارلیمنٹ سے کچھ ملا ہے نہ ان دنوں بہت امیدیں ہیں اور مستقبل بارے تو کچھ کہنا مشکل ہے۔ اگر پارلیمٹیرینز کے طرز عمل پر غور کیا جائے تو یہاں اکثریت میں غیر سنجیدگی نظر آتی ہے۔ جن لوگوں نے ملک و قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ہے انہیں خود کچھ علم نہیں کہ ووٹرز نے ان پر جو اعتماد کیا ہے اس پر کیسے پورا اترنا ہے، انہیں خود یہ احساس نہیں ہے کہ ریاستی اداروں میں تناو، شدت اور عدم اعتماد کی فضاء سے سب سے زیادہ نقصان ریاست کا ہوتا ہے۔ پاکستان کروڑوں لوگوں کا ملک ہے، یہاں حکمران طبقہ ہر روز اداروں پر چڑھائی کرتا ہے، اس صورت حال میں گذشتہ چند برسوں میں تیزی آئی ہے۔ خدانخواستہ یہ حالات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ہر روز درجنوں پریس کانفرنسوں میں قوم کو الجھایا جاتا ہے، کوئی مدد نہ ملنے پر اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہے، کوئی عدلیہ پر چڑھائی کر رہا ہے، کوئی پارلیمنٹ کو مسائل کی وجہ سمجھتا ہے یعنی ہر طرف یہ مسائل ہیں اور ہر گذرتے دن کے ساتھ مسائل میں شدت آتی جا رہی ہے۔ یہاں تو حالات یہ ہیں کہ ملک کے ایک صوبے کا وزیراعلیٰ روزانہ دھمکی آمیز بیانات، ویڈیوز جاری کرتا ہے، کبھی لوڈ شیڈنگ پر قابو کے لیے اس ادارے پر چڑھائی کا بیان جاری کرتا ہے، کبھی صوبے کے گورنر کو دھمکیاں دیتا ہے، کبھی وفاق کو دھمکیاں دیتا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یہ وفاق کو دیتے کیا ہیں۔ اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی گورننس کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں سے کم از کم اٹھارہ گھنٹے میڈیا پر اداروں کے مابین تنائو اور مختلف حوالوں سے تنقید سننے کو ملتی ہے۔ کیا یہ ذمہ داری حکمرانوں کی نہیں ہے کہ وہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے کام کریں، کیا یہ ذمہ داری پارلیمنٹیرینز کی نہیں ہے کہ وہ حالات میں ٹھہرائو پیدا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ اپوزیشن والے ہر وقت رونا دھونا کرتے ہیں، حکومت جواب دیتی رہتی ہے اور اس زبانی جنگ میں یہ سب کہتے ہیں کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ معیشت کیسے مضبوط ہو گی، جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا، سرمایہ کاری کے لیے ماحول کا سازگار ہونا ممکن نہیں اور جب تک حالات سازگار نہیں ہوں گے اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع نہیں بڑھیں گے اس وقت تک عام آدمی کے مسائل بھی حل نہیں ہو سکتے۔
اداروں میں تنائو کی کیفیت سیاسی لوگوں کی غلط حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جب تک سیاسی قیادت سیاسی و ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کام نہیں کرے گی اس وقت تک بہتری کا امکان نہیں ہے۔ جہاں تک اداروں کا تعلق ہے وہاں بھی باہمی احترام، آئین و قانون کی پاسداری اور حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی حکمت عملی ہی آگے بڑھنے اور تنازعات سے بچنے کا راستہ ہے ۔ جب تک ملک کی ترقی کے لیے سٹیک ہولڈرز ایک پیج ہو کر آگے نہیں بڑھیں گے اس وقت تک ملک میں کسی قسم کا استحکام نہیں آ سکتا۔ اداروں نے اپنی آئینی حدود کا خیال رکھتے ہوئے کام کرنا ہے اور سیاست دانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے ۔ اس وقت تو ایسا محسوس ہوتا ہے اندرونی اتحاد کی کمی ہے ۔ پاکستان کے بیرونی دشمنوں سے مقابلہ کرنے، ملک کو مسائل سے نکال کر ترقی کے سفر پر ڈالنے کے لیے ہر سطح پر اتحاد ضروری ہے۔ اس حوالے جب تک ادارے ایک سمت میں آگے نہ بڑھیں اور پارلیمنٹ درست سمت میں رہنمائی نہ کرے عام آدمی خوار ہوتا رہے۔ ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش بیرونی دشمنوں نے کرنی ہے۔ ملکی معیشت کو سنبھالنا ہے تو باہمی اختلافات کو ختم کرنا ہو گا ۔ یہاں صوبے وفاق کو ڈیڈ لائن دینے میں مصروف ہیں ۔ کیا مسائل ایسے حل ہوں گے، ایسے ملک ترقی کرے گا۔ یہ تو نفرتیں پھیلانے والی باتیں ہیں۔ جب صوبے کے گورنر اور وزیر اعلیٰ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی میں لگ جائیں یا دونوں آمنے سامنے آنے لگیں تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ اس طرح تو عوامی سطح پر بھی عدم برداشت جو کہ پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے اس میں مزید اضافہ ہو گا۔ سو یہ بہت جلد سوچنے اور بہت جلد عمل کرنے کا وقت ہے۔
آخر میں مظفر رزمی کا کلام
کوئی سوغات وفا دے کے چلا جاؤں گا
تجھ کو جینے کی ادا دے کے چلا جاؤں گا
میرے دامن میں اگر کچھ نہ رہے گا باقی
اگلی نسلوں کو دعا دے کے چلا جاؤں گا
تیری راہوں میں مرے بعد نہ جانے کیا ہو
میں تو نقش کف پا دے کے چلا جاؤں گا
میری آواز کو ترسے گا ترا رنگ محل
میں تو اک بار صدا دے کے چلا جاؤں گا
میرا ماحول رلاتا ہے مجھے آج مگر
تم کو ہنسنے کی فضا دے کے چلا جاؤں گا
باعث امن و محبت ہے اگر میرا لہو
قطرہ قطرہ بخدا دے کے چلا جاؤں گا
عمر بھر بخل کا احساس رلائے گا تمہیں
میں تو سائل ہوں دعا دے کے چلا جاؤں گا
میرے اجداد نے سونپی تھی جو مجھ کو رزمی
نسل نو کو وہ قبا دے کے چلا جاؤں گا

سعودی عرب: عازمین حج کیلئے ڈیجیٹل کتب کی فراہمی

QOSHE - اداروں کو سیاست زدہ کرنے کی کوششیں!!!! - محمد اکرم چوہدری
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اداروں کو سیاست زدہ کرنے کی کوششیں!!!!

20 0
18.05.2024

ملک میں سیاسی درجہ حرارت کسی طور کم ہونے میں نہیں آ رہا، سیاسی شخصیات تہیہ کر چکی ہیں کہ ملک کو چلنے نہیں دینا، سب اپنی اپنی سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے کام کر رہے ہیں، پارلیمنٹ میں موجود افراد بیک وقت ریاستی اداروں کو سیاسی معاملات میں ملوث کر رہے ہیں، کچھ ماضی کے واقعات کو یاد کروا رہے ہیں تو کچھ آج ریاستی اداروں کو مداخلت کے لیے اکسا رہے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر سیشن میں ہر روز ہر وقت الزامات لگتے ہیں، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا جاتا ہے، الزام تراشی ہوتی ہے، ایسے معاملات جس کا عام آدمی کی زندگی سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے ان معاملات پر گھنٹوں تقاریر ہوتی ہیں۔ روز یہی تماشہ ہوتا ہے۔ ملک کے کروڑوں لوگ پارلیمنٹ سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں لیکن نہ انہیں ماضی میں اس پارلیمنٹ سے کچھ ملا ہے نہ ان دنوں بہت امیدیں ہیں اور مستقبل بارے تو کچھ کہنا مشکل ہے۔ اگر پارلیمٹیرینز کے طرز عمل پر غور کیا جائے تو یہاں اکثریت میں غیر سنجیدگی نظر آتی ہے۔ جن لوگوں نے ملک و قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنا ہے انہیں خود کچھ علم نہیں کہ ووٹرز نے ان پر جو اعتماد کیا ہے اس پر کیسے پورا اترنا ہے، انہیں خود یہ احساس نہیں ہے کہ ریاستی اداروں میں تناو، شدت اور عدم اعتماد کی فضاء سے سب سے زیادہ نقصان ریاست کا ہوتا ہے۔ پاکستان کروڑوں لوگوں کا ملک ہے، یہاں حکمران طبقہ ہر روز اداروں پر چڑھائی کرتا ہے، اس صورت حال میں........

© Nawa-i-Waqt


Get it on Google Play