خان صاحب نے بالآخر آئی ایم ایف کو وہ چٹھی لکھ کر بھیج دی جس کا کئی دن سے شہرہ تھا۔ مدعا چٹھی کا بس اتنا ہے کہ پاکستان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے، دوسرے لفظوں میں اسے غزہ بنا دیا جائے۔ مبصرین کا بیان چھپا ہے کہ یہ تو پاکستان سے کھلی دشمنی ہے۔ مطلب اچھی بات ہے یعنی کہ دشمنی کھلی ہی ہونی چاہیے، پوشیدہ دشمنی رکھنا منافقت ہوتی ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ خان صاحب منافقت کے کتنے خلاف ہیں۔
چٹھی میں آئی ایم ایف کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں 30 فیصد انتخابی حلقوں کا آڈٹ کرے۔ شاید خان صاحب نے آئی ایم ایف کو ای ایم ایف سمجھ لیا ہے۔ ای ایم ایف یعنی الیکشن مانٹرنگ فنڈ۔ آئی ایم ایف کے دائرہ کار میں الیکشن مانیٹرنگ آڈٹ وغیرہ شامل ہی نہیں اس لئے اس ’’الٹی میٹم‘‘ کو وہ درخوراعتنا نہیں سمجھے گا، ایسا ہی خیال کیا جا رہا ہے لیکن معاملہ ’’خان‘‘ صاحب کا ہے جن کو ناں سننے کی عادت ہی نہیں، آئی ایم ایف نے یہ الٹی میٹم مان لیا تو کیا ہو گا؟۔ آڈٹ کیلئے بہت بڑی تربیت یافتہ فوج کی ضرورت ہو گی جو آئی ایم ایف کے پاس ہے ہی نہیں۔ مناسب ہے کہ ایک خط ’’نیٹو‘‘ کی ہائی کمان کو لکھ دیا جائے اور تین دن کا الٹی میٹم دیا جائے کہ دوچار لاکھ فوجی ترنت روانہ کرے۔ لیکن نیٹو کی چھا?نیاں بہت دور ہیں، اتنی جلدی لشکر کے لشکر کیسے بھیج سکتے ہیں، خرچہ بھی تو بہت اْٹھے گا۔ زیادہ مناسب ہے کہ خطے ہی کے کسی ’’غیر جانبدار‘‘ ملک کی خدمات لی جائیں۔ غیر جانبدار ملک جو عدل، انصاف اور غیر جانبداری کے ساتھ آڈٹ کر سکے۔
خطے میں ایسا کون سا غیر جانبدار، منصف مزاج اور عادل ہو؟ بھارت کے بارے میں کیا خیال ہے خان صاحب؟
______
خط لکھنے پر سخت غدّاری کا مقدمہ بن سکتا ہے، یہ بات بھی میڈیا پر آئی ہے۔ خان صاحب بہت سیانے ہیں، خط انہوں نے، اسی خدشہ کے پیش نظر ، خود نہیں لکھا، امریکی شہریت والے کسی رؤف حسن نامی شخص سے لکھوایا ہے اور مقدمہ اگر بنا تو اسی امریکی شہری پر بنے گا۔
اور امریکی شہری پر مقدمہ بنانے کا کچھ فائدہ نہیں ، امریکہ اپنے شہری پر مقدمہ چلنے ہی نہیں دیتا، کیا ریمنڈ ڈیوس اور کیا رئوف حسن، صاف مکھن سے بال کی طرح نکال کر لے جاتا ہے۔
______
پختونخواہ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی مسلم لیگ ن کی ایک ایم پی اے ثوبیہ صاحبہ گھڑی لہراتی ہوئی ایوان میں داخل ہوئیں اور گھوم پھر کر ہر ایک کو گھڑی دکھائی۔
یہ کوئی عام گھڑی نہیں تھی، زبردست طلسماتی اور رحونیاتی قسم کی گھڑی تھی۔ گھڑی سے طلسماتی اور رحونیاتی شعاعیں نکلیں اور پی ٹی آئی کے تمام ارکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شعاعوں کے اثرات نے کرشمہ دکھایا اور جملہ احباب پی ٹی آئی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے اور ایسی گالیوں کو کورس کی شکل میں گانے لگے جس کی اشاعت کسی کے بس میں ہے نہ سماعت۔ یہ ہوتا ہے رحونیاتی اعجاز، خان صاحب کے دئیے گئے شعور کو دوبالا کر دیتا ہے۔ تادیر جاری رہنے والی اس مجلس سماع کے دوران بعض احباب پر پہلے وجد طاری ہوا پھر ’’حال‘‘ آ گیا اور جملہ زیر حال احباب نے جوتے، ڈبے، کاغذ، پنسلیں اس خاتون پر پھینکنا شروع کر دیں۔ اور حد تو یہ ہوئی کہ ،محترمہ ثوبیہ صاحبہ کے مطابق، چرس کی اچھی خاصی مقدار بھی ان پر پھینکی گئی۔
محترمہ غالباً خود بھی کسی ’’روحانی حصار‘‘ میں تھیں، جوتے انہیں نہیں لگے البتہ چرس کی بھاری مقدار ان پر گری جو انہوں نے جھاڑ دی۔
پی ٹی آئی کے احباب نے باقی جو پھینکا سو پھینکا لیکن چرس نہیں پھینکنی چاہیے تھی۔ چرس ایک گراں قدر اور گراں قیمت جنس ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں بہت سے سندباد جہازی ایسے ہیں جو چرس کی ایک چٹکی کو ترستے ہیں اور یہاں آپ نے ایسی بے قدری کی کہ بے تحاشا پھینک ڈالی۔ وہ تو غنیمت ہوا کہ اسمبلی کے عملے نے یہ جنس گراں مایہ سمیٹ لی۔ خان صاحب اپنے ارکان اسمبلی کو سمجھائیں کہ وہ اس طرح تحقیر نعمت نہ کیا کریں۔ غریب ملک ہے، قدرِ نعمت کی جانی چاہیے۔
______
صدر مملکت ڈٹ گئے تھے کہ اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا?ں گا لیکن پھر آخری رات یعنی اجلاس بلائے جانے کی ڈیڈ لائن سے پہلے والی آخری رات کے آخری لمحے، ٹھیک بارہ بجے سرنڈر کر دیا۔ اور اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ پی ٹی آئی کے احباب بہت مشتعل ہوئے اور کہا، صدر نے پارٹی کی کمر میں چھرا گھونپ دیا۔
بھئی، پارٹی کی کمر سب پارٹی والوں کی کمر ہے یعنی خود صدر صاحب کی کمر بھی تو ہے۔ اور صدر نے بس یہی تو کہا کہ میری کمر، میری مرضی_ اور یہ آخر شب کی رمز پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ بہت سے اہم ’’اقدامات‘‘ رات کے بارہ بجے ہی کیوں کرتے ہیں۔ خود بڑے خان صاحب نے، عدم اعتماد کی تحریک والے معاملے کی آخری رات، 12 بجے ہی وزیر اعظم ہائوس خالی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
شنید ہے کہ کسی رہنما نے صدر کو فون کیا کہ یہ آپ نے کیا کیا، آخری وقت میں سرنڈر کر دیا۔ صدر نے جواب دیا، یہ بھی تو دیکھو، میں نے فائٹ بھی تو کیا۔ پی ٹی آئی کے ایک فکری رہنما یاد آ گئے۔ 1971ء کے دسمبر کی 16 تاریخ کو انہوں نے پلٹن میدان ڈھاکہ میں سرنڈر کیا اور پستول جنرل اروڑہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ سر آپ مجھے اس بات پر داد تو دو کہ میں نے کیسی ’’فائٹ‘‘ کی۔

پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 13 پیسے اضافہ کردیا گیا

QOSHE - خان صاحب دو چٹھیاں اور …! - عبداللہ طارق سہیل
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

خان صاحب دو چٹھیاں اور …!

38 0
01.03.2024

خان صاحب نے بالآخر آئی ایم ایف کو وہ چٹھی لکھ کر بھیج دی جس کا کئی دن سے شہرہ تھا۔ مدعا چٹھی کا بس اتنا ہے کہ پاکستان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے، دوسرے لفظوں میں اسے غزہ بنا دیا جائے۔ مبصرین کا بیان چھپا ہے کہ یہ تو پاکستان سے کھلی دشمنی ہے۔ مطلب اچھی بات ہے یعنی کہ دشمنی کھلی ہی ہونی چاہیے، پوشیدہ دشمنی رکھنا منافقت ہوتی ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ خان صاحب منافقت کے کتنے خلاف ہیں۔
چٹھی میں آئی ایم ایف کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں 30 فیصد انتخابی حلقوں کا آڈٹ کرے۔ شاید خان صاحب نے آئی ایم ایف کو ای ایم ایف سمجھ لیا ہے۔ ای ایم ایف یعنی الیکشن مانٹرنگ فنڈ۔ آئی ایم ایف کے دائرہ کار میں الیکشن مانیٹرنگ آڈٹ وغیرہ شامل ہی نہیں اس لئے اس ’’الٹی میٹم‘‘ کو وہ درخوراعتنا نہیں سمجھے گا، ایسا ہی خیال کیا جا رہا ہے لیکن معاملہ ’’خان‘‘ صاحب کا ہے جن کو ناں سننے کی عادت ہی نہیں، آئی ایم ایف نے یہ الٹی میٹم مان لیا تو کیا ہو گا؟۔ آڈٹ کیلئے بہت بڑی تربیت یافتہ فوج کی ضرورت ہو گی جو آئی ایم ایف کے پاس ہے ہی نہیں۔ مناسب ہے کہ ایک خط ’’نیٹو‘‘ کی ہائی کمان کو لکھ دیا جائے اور تین دن کا الٹی میٹم دیا جائے کہ دوچار لاکھ فوجی ترنت روانہ کرے۔ لیکن نیٹو کی چھا?نیاں بہت........

© Nawa-i-Waqt


Get it on Google Play