سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گریٹ خان کے اس بیان کو سنگین غدّاری قرار دیا ہے جس میں ملّت اسلامیہ کے سب سے بڑے قائد نے ایران میں پاکستان کی جوابی کارروائی کو تشویش ناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے حملے میں مرنے والے بی ایل اے کے کمانڈروں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔ نیز ایران سے ہمدردی بھی جتائی گئی تھی۔
رانا ثناء کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ بیان غدّاری کے زمرے میں نہیں آتا، یہ دراصل گریٹ خان کا ایک اور ٹرمپ کارڈ تھا جو انہوں نے چلایا۔ رانا صاحب جانتے ہیں کہ گریٹ خان کے پاس ٹرمپ کارڈوں کی کمی نہیں ہے۔ کچھ عرصہ بیشتر وہ ہر ماہ کبھی دو، کبھی تین اور کبھی اس سے بھی زیادہ بار ٹرمپ کارڈ چلاتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے انہوں نے ٹرمپ کارڈ چلانے کم کر دیئے ہیں۔ شاید کچھ قلت کا سامنا ہے چنانچہ کبھی کبھار اشد ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتے ہیں۔
____
آگے بڑھنے سے قبل ان کے چلائے ہوئے بے شمار ٹرمپ کارڈز میں سے چند ایک دلچسپ اور موثر ترین کارڈز کا ذکر کر لیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ ایک کارڈ کا نام قاسم سوری تھا۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل انہوں نے اعلان کیا کہ کل ایسا ٹرمپ کارڈ چلائوں گا کہ تحریک عدم اعتماد فنا فی النار ہو جائے گی۔ اگلے روز قاسم سوری نے بطور سپیکر تحریک عدم اعتماد کو ’’غدّاری‘‘ قرار دے کر ووٹنگ کیلئے پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ گریٹ خاں کے حامی فی الفور جشن منانے میں مصروف ہو گئے اور اس وقت تک جشن مناتے رہے جب تک سپریم کورٹ نے ووٹنگ کرانے کا حکم نہیں دے دیا۔ ووٹنگ ہوئی اور ٹرمپ کارڈ ابدی آرام گاہ پہنچ گیا۔
ایک ٹرمپ کارڈ قومی اسمبلی سے استعفوں کا تھا۔ استعفے دئیے، ٹی وی میزبانوں نے ایسا جشن منایا کہ تاریخ میں زندہ جاوید ہو گیا۔ کہا گیا، گریٹ خان نے یہ کارڈ استعمال کر کے اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ کیلئے ناک آئوٹ کر دیا۔ بعدازاں اس ٹرمپ کارڈ کا دوسرا حصہ استعمال ہوا اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا کہ خدا کیلئے ہمارے استعفے منظور ہونے سے روکو، ہم ٹرمپ کارڈ کا پہلا حصہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ یہ کارڈ بھی یوں ابدی آرام گاہ کو روانہ ہوا۔
کچھ ہی عرصے بعد ایک اور تباہ کن ٹرمپ کارڈ پنجاب اور پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ کر چلایا گیا۔ اب تو اسٹیبلشمنٹ بچ ہی نہیں سکتی، ٹی وی میزبانوں نے باجماعت خوشی کے شادیانے بجائے۔ ہر ٹرمپ کارڈ اتنا موثر تھا کہ خان بمعہ پرویز الٰہی پس دیوار زنداں پہنچ گئے، نہایت بآسانی۔
اور بھی بہت سے ٹرمپ کارڈ کھیلے گئے لیکن سب سے کمال کا ٹرمپ کارڈ ’’9 مئی‘‘ کا تھا۔ اب تو انقلاب آوے ہی آوے۔ اور واقعی انقلاب آ گیا۔ پوری پی ٹی آئی باجماعت روپوش ہو گئی۔ اس انقلاب کو انقلابِ روپوشی اور مفروری کا نام دیا جاتا ہے۔
اور اب یہ کارڈ بظاہر 9 مئی کے کارڈ سے بھی بڑا کھیل دیا کہ اپنے ہی ملک کی مذمت کر دی، حملہ آور اور اس کی جارحیت کی تعریف کر دی۔ یوں اسے ٹرمپ نہیں، الٹرمپ کارڈ کہنا چاہیے۔ (ایک تحقیق کے مطابق ٹرمپ کارڈ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایجاد کر کے خان کے حوالے کئے، البتہ درست ترکیب استعمال کا پرچہ دینا بھول گئے۔ ایسا کہا جاتا ہے)۔
یہ وہ الٹرمپ کارڈ ہے جو آج تک دنیا کے کسی بھی ملک کے کسی بھی رہنما نے استعمال نہیں کیا۔ اس کیلئے خان جیسا دل جگر اور گردہ چاہیے۔ اپنے ہی ملک کی مذمت کرنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ یہ کام ملّت اسلامیہ کا سب سے بڑا لیڈر ہی کر سکتا تھا۔
____
خان کو ٹرمپ کارڈ اس طرح استعمال کرتے دیکھا تو ان کے غیر مشروط مدّاح جناب سراج الحق صاحب کیوں پیچھے رہتے۔ مطلب کچھ زیادہ پیچھے کیوں رہتے۔ انہوں نے براہ راست پاکستان کی مذمت سے البتہ گریز کیا اور بالواسطہ وہی بات کہہ گئے جو خان نے کہی تھی۔
فرمایا، ایران کا حملہ حیرت انگیز ہے (معلوم ہوا جارحیت کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک قابلِ مذمت ، دوسری حیرت انگیز۔ ایرانی حملہ دوسری قسم میں آتا ہے)۔ مزید فرمایا، دونوں ملک ایک دوسرے پر حملے نہ کریں۔
مطلب دونوں کو برابر کر دیا۔ کیا دونوں ملک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں یا ایران نے بلاجواز جارحیت کی اور پاکستان نے مجبوراً جواب دیا۔ ایرانی دعویٰ جھوٹا نکلا، سراسر جھوٹا کہ اس نے دہشت گردی کے کیمپ پر حملہ کیا۔ پاکستان نے مرنے والے دہشت گردوں کے نام بھی جاری کر دئیے۔ بہرحال، ہمیں پاکستان کے سرکاری موقف اور اس سچائی کو مسترد کرتے ہوئے صادق و امین دو کم سراج الحق کے ’’پلڑے برابر‘‘ والا موقف مان لینا چاہیے۔
سراج الحق ، خان صاحب اور ایران بھارت کا دکھ سانجھا ہے۔ اس سانجھے دکھ کا نام ’’سی پیک‘‘ ہے جسے رکوانے کیلئے سراج الحق پانامہ کاغذات آتے ہی سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے، حضور، خدا کا واسطہ ہے، باقی سب کام چھوڑو، پہلے صرف اور صرف نواز شریف کونااہل کرو، اس کی حکومت ختم کرو ورنہ سی پیک بن جائے گا۔ مراد پوری ہوئی، سراج الحق صاحب نے مٹھائی کھائی اور کھلائی۔
اب اتنے برسوں بعد سی پیک پھر سے بننے جا رہا ہے۔ ایران بھارت خان اور سراج الحق پہلے سے بڑھ کر صدمے کا شکار ہیں۔
____
عدّت میں نکاح کیس فی الحال عدالتی حکم پر رک گیا ہے، دوران سماعت خان کے وکیل نے پہلا موقف واپس لے لیا کہ الزام جھوٹا ہے، نکاح عدّت میں نہیں، عدّت کے بعد ہوا ہے۔ اب نیا موقف یہ آیا ہے کہ نکاح تو عدّت میں ہی ہوا لیکن عدّت کے دوران نکاح گناہ ہے نہ جرم (بلکہ ثواب ہے)۔
نکاح طلاق کے امور اور دینی مسائل کے بارے میں خان صاحب اتھارٹی ہیں۔ ان کے مقابل آنے والی ہر دینی رائے مسترد کر دینے کے قابل ہے اس لئے کہ خان صاحب پر ، بقول پی ٹی آئی کے، الہامات کا در کھلا ہے۔ ایک الہام گزشتہ کسی روز معلوم ہوا تھا کہ قبر میں پہلا سوال نماز اور کلمے کے بارے میں نہیں ہو گا بلکہ گریٹ خان کے بارے میں ہو گا۔
صرف عدّت اور طلاق وغیرہ ہی نہیں ، تمام دینی امور ، عقائد و اعمال کی نئی تشریح خان اور ان کے گھرانے پر نازل ہونے والے الہامات جدید کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ مزید تائید اس مطالبے کی مولانا طارق جمیل، حریم شاہ، عائلہ ملک وغیرہ سے مل سکتی ہے۔ وما علینا الاّ البلاغ۔

پاک ایران کشیدگی پر امریکی صدر کا اہم بیان

QOSHE - ایک اور ٹرمپ بلکہ ال ٹرمپ کارڈ - عبداللہ طارق سہیل
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک اور ٹرمپ بلکہ ال ٹرمپ کارڈ

21 1
20.01.2024

سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گریٹ خان کے اس بیان کو سنگین غدّاری قرار دیا ہے جس میں ملّت اسلامیہ کے سب سے بڑے قائد نے ایران میں پاکستان کی جوابی کارروائی کو تشویش ناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے حملے میں مرنے والے بی ایل اے کے کمانڈروں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔ نیز ایران سے ہمدردی بھی جتائی گئی تھی۔
رانا ثناء کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ بیان غدّاری کے زمرے میں نہیں آتا، یہ دراصل گریٹ خان کا ایک اور ٹرمپ کارڈ تھا جو انہوں نے چلایا۔ رانا صاحب جانتے ہیں کہ گریٹ خان کے پاس ٹرمپ کارڈوں کی کمی نہیں ہے۔ کچھ عرصہ بیشتر وہ ہر ماہ کبھی دو، کبھی تین اور کبھی اس سے بھی زیادہ بار ٹرمپ کارڈ چلاتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے انہوں نے ٹرمپ کارڈ چلانے کم کر دیئے ہیں۔ شاید کچھ قلت کا سامنا ہے چنانچہ کبھی کبھار اشد ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتے ہیں۔
____
آگے بڑھنے سے قبل ان کے چلائے ہوئے بے شمار ٹرمپ کارڈز میں سے چند ایک دلچسپ اور موثر ترین کارڈز کا ذکر کر لیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ ایک کارڈ کا نام قاسم سوری تھا۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل انہوں نے اعلان کیا کہ کل ایسا ٹرمپ کارڈ چلائوں گا کہ تحریک عدم اعتماد فنا فی النار ہو جائے گی۔ اگلے روز قاسم سوری نے بطور سپیکر تحریک عدم اعتماد کو ’’غدّاری‘‘ قرار دے کر ووٹنگ کیلئے پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ گریٹ خاں کے حامی فی الفور جشن منانے میں مصروف ہو گئے اور اس وقت تک جشن مناتے رہے جب تک سپریم کورٹ نے........

© Nawa-i-Waqt


Get it on Google Play