پنجاب اور کے پی میں آٹا مہنگا، کم یاب اور نایاب کرنے کا ’’ترقیاتی منصوبہ‘‘ وفاقی حکومت نے گندم کی ہنگامی درآمد کر کے ناکام بنا دیا۔ سخت ناپسندیدہ بلکہ ناہنجار کوشش۔ دونوں صوبوں نے مارکیٹ کو سرکاری ذخیرے سے رسد آدھی کر کے یہ منصوبہ نافذ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت کے اس ناہنجار اقدام سے قیمت میں نمایاں کمی ہو گئی، فراہمی بھی بہتر ہو گئی۔ یہ اٹھارہویں ترمیم کی صریح خلاف ورزی ہے جو وفاق نے کی ہے۔ بہرحال، دیانتدار اور نیکو کاروں نے اس بیچ 30 ارب روپے کی ’’دہاڑی‘‘ لگا لی۔ چلئے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی۔ زیرِ نظر ماجرے میں لنگوٹی کی قیمت 30 ارب روپے ٹھہری۔

وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے

____________

لنگوٹی سے یاد آیا، کل ہی فیصل واوڈا نے بتایا کہ لاہور والے روڈا پراجیکٹ میں 3 ہزار ارب روپے کی ’’لنگوٹی‘‘ ہتھیا لی گئی ہے۔ بظاہر بہت بڑی رقم ہے لیکن آپ حصہ داروں کی تعداد بھی دیکھیں، جو 4 ہے۔ یعنی یہ لنگوٹی اگر فی کس تقسیم کی جائے تو فی نیکوکار ایک ہزار ارب روپے کی رائونڈ فگر بھی نہیں آتی۔ اتنی معمولی رقم اس مہنگائی کے دور میں کیا معنے رکھتی ہے۔ مطلب چار ہزار ارب روپے کی یہ لنگوٹی دراصل اتنی باقیمت نہیں ہے جتنی نظر نہیں آتی۔

فی الحال، البتہ، اس معاملے پر سٹے آرڈر آ گیا ہے اور دو ہفتوں بعد اگلی سماعت ہے۔ مطلب یہ کہ مزید لنگوٹیاں حاصل کرنے کے امکانات کم سے کم دو ہفتوں کے لیے معدوم ہو گئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب پر اعتماد کے ووٹ کا عمل جاری ، اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کرگئے

____________

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنیوا کانفرنس سے جو وعدے لئے، وہ ہمارے ہاں بعض پُرامید لوگوں کی توقع سے بھی زیادہ ہیں۔ سعودی عرب نے بھی توقعات سے کچھ زیادہ ہی دینے کے اشارے دئیے ہیں۔ البتہ کچھ لوگ بہت مضطرب ہوئے اور فرما رہے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی، باہر جا کر بھیک مانگی جا رہی ہے، ہمارے خان صاحب ایک بار بھی بھیک مانگنے نہیں گئے، وہ تو پیکج لینے جاتے تھے اور پیکج ملنے پر قوم کو مبارک دیتے تھے۔

یہ شہباز شریف کی کامیابی تو ہے لیکن محض ان کے اکیلے کی نہیں اس میں اچھا خاصا حصہ وزیر خارجہ بلاول کا بھی ہے۔ شیخ جی ازرہ حقارت بلاول کو ’’بلّو‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس بلّو کی سفارتی فتوحات کے بعد سے شیخ جی کی حالت، حالت زار سے بڑھ کر حالت زار و قطار ہو گئی ہے تو تعجب کیسا…!

نواز شریف اور مریم نواز جینیوا سے لندن واپس پہنچ گئے

____________

شیخ جی نے کل ہی کہا، میں نے تو ان کو بتا دیا تھا کہ آپ کے لیے خان کی حمایت نہیں چھوڑ سکتا، چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔

انہوں نے مجھے چھوڑ دیا کی حد تک شیخ جی کی بات درست ہے۔ لیکن ترتیب زمانی میں انہوں نے ڈنڈی ماری ہے، درست ترتیب یہ ہے کہ پہلے ’’انہوں‘‘ نے شیخ جی کو چھوڑا اور گیٹ نمبر چار ان کے لیے مستقل بند کر دیا۔ شیخ جی بار بار گیٹ کھلوانے کے لیے منت ترلے کرتے رہے حتمی انکار ہو گیا تب انہوں نے وہی کیا جو کسی برطرف ملازم نے کیا تھا۔ ناقابلِ بیان کارناموں کی بنا پر ادارے نے ان ملازم صاحب کو بیک بینی و دو گوش دفتر بدر کر دیا تو بہت روئے، کرلائے، تڑپے اور ناچار گھر کو لوٹے اور بیگم صاحبہ کو بتایا کہ دفتر والوں کو لات مار آیا ہوں۔

نسیم شاہ نے ون ڈے میچ میں نیا عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

شیخ جی نے بھی جو یہ بات کی کہ ’’انہیں‘‘ بتا دیا تھا تو یہ بھی اسی قسم کی لات ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آئندہ کے لیے ان کی ری اپوانٹمنٹ کے امکانات بھی نہیں رہے۔ ایک تو ادارے نے پالیسی بدل لی، دوسرے یہ کہ شیخ جی عمر و عقل کی اس منزل پر آ گئے کہ اب ان سے ’’سنہری خدمات‘‘ کی ویسے بھی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

____________

’’عالمی فتوحات‘‘ سے خوش ہو کروفاقی حکومت نے گیس 75 فیصد مہنگی کر دی ہے۔ وہ چاہتی تو سو فیصد اضافہ بھی کر سکتی تھی لیکن عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالنے کی پالیسی نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔

مری آنے والے سیاحوں کیلئے ہدایات جاری

ویسے عام آدمی گیزر اور ہیٹر کی سہولت کا ’’بوجھ‘‘ پہلے ہی اتار کے پھینک چکا ہے، لہٰذا اس کے زیادہ متاثر ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ بہرحال مہنگائی کی ایک اور بڑی لہر آئے گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ جو عام آدمی اتنی زیادہ لہروں میں نہیں ڈوبا، مزید ایک لہر سے بھی نہیں ڈوبے گا۔ ایں ہمہ برسر علم!

____________

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ریاست تری پورہ کے مکھیہ منتری مانک ساھا نے کہا ہے کہ بی جے پی پوتر پارٹی ہے، جو اس میں شامل ہو گا یا اس کا ساتھ دے گا، اس کے سارے پاپ دُھل جائیں گے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں ان کا یہ بیان چھپا ہے۔

معلوم ہوا، دنیا کے سبھی ’’نیکوکار‘‘ ایک ہی جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ نیکوکاروں کی ایک پارٹی پاکستان میں بھی ہے۔ جو ہمارا ساتھ دے گا، جنّت میں جائے گا جو ساتھ نہیں دے گا، قبر میں پہلا سوال اس سے اسی بارے میں کیا جائے گا۔ وہ تو بی جے پی سے بڑھ کر یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں اللہ نے مبعوث کیا ہے۔

مانک ساھا نے یہ نہیں کہا کہ جو بی جے پی کا ساتھ نہیں دے گا، وہ نرکھ (دوزخ) میں جائے گا، البتہ ہمارے ہاں کے نیکوکاروں کی پارٹی یہ بھی کہتی ہے یعنی ہمارے ہاں کے نیکوکار، بھارت والے نیکو کاروں سے ایک قدم آگے ہیں بی جے پی عالمی اداروں سے پاکستان کی امداد پر دکھی ہے لیکن اتنی نہیں جتنے ہمارے ہاں کے نیکوکار دکھی ہیں۔ یعنی اس معاملے میں بھی ہمارے ہاں کے نیکوکار، بھارتی نیکوکاروں سے ایک قدم آگے ہیں۔

____________

پی ٹی آئی نے نئے ’’چیف‘‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں، ثابت کریں کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔

غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے انہیں کیا کرنا چاہیے؟۔ پہلے مرحلے پر انہیں پنجاب میں پی ٹی آئی پرویزالٰہی کو اعتماد کا ووٹ دلانے میں مدد کرنی چاہیے۔ فی الحال ان کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں، کچھ کم ہیں۔ وہ کمی پوری کر دیں، مزید اقدامات بعدازاں تجویز کئے جا سکتے ہیں۔ خان صاحب کچھ عرصہ پہلے بتا چکے ہیں کہ جب قومی اسمبلی میں کسی ووٹنگ وغیرہ کے مرحلے پر ان کے ’’نمبر‘‘ پورے نہیں ہوتے تھے تو میں ’’انہیں‘‘ فون کرتا تھا اور وہ نمبر پورے کر کے اپنی غیر جانبداری ثابت کرتے تھے۔

تو غیر جانبداری ثابت کرنے کا یہ ہے صحیح طریقہ

____________

QOSHE - ہمارے نیکو کار پھر بھی آگے  - عبداللہ طارق سہیل
menu_open
Columnists . News Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہمارے نیکو کار پھر بھی آگے 

6 0 0
12.01.2023

پنجاب اور کے پی میں آٹا مہنگا، کم یاب اور نایاب کرنے کا ’’ترقیاتی منصوبہ‘‘ وفاقی حکومت نے گندم کی ہنگامی درآمد کر کے ناکام بنا دیا۔ سخت ناپسندیدہ بلکہ ناہنجار کوشش۔ دونوں صوبوں نے مارکیٹ کو سرکاری ذخیرے سے رسد آدھی کر کے یہ منصوبہ نافذ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت کے اس ناہنجار اقدام سے قیمت میں نمایاں کمی ہو گئی، فراہمی بھی بہتر ہو گئی۔ یہ اٹھارہویں ترمیم کی صریح خلاف ورزی ہے جو وفاق نے کی ہے۔ بہرحال، دیانتدار اور نیکو کاروں نے اس بیچ 30 ارب روپے کی ’’دہاڑی‘‘ لگا لی۔ چلئے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی۔ زیرِ نظر ماجرے میں لنگوٹی کی قیمت 30 ارب روپے ٹھہری۔

وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے

____________

لنگوٹی سے یاد آیا، کل ہی فیصل واوڈا نے بتایا کہ لاہور والے روڈا پراجیکٹ میں 3 ہزار ارب روپے کی ’’لنگوٹی‘‘ ہتھیا لی گئی ہے۔ بظاہر بہت بڑی رقم ہے لیکن آپ حصہ داروں کی تعداد بھی دیکھیں، جو 4 ہے۔ یعنی یہ لنگوٹی اگر فی کس تقسیم کی جائے تو فی نیکوکار ایک ہزار ارب روپے کی رائونڈ فگر بھی نہیں آتی۔ اتنی معمولی رقم اس مہنگائی کے دور میں کیا معنے رکھتی ہے۔ مطلب چار ہزار ارب روپے کی یہ لنگوٹی دراصل اتنی باقیمت نہیں ہے جتنی نظر نہیں آتی۔

فی الحال، البتہ، اس معاملے پر سٹے آرڈر آ گیا ہے اور دو ہفتوں بعد اگلی سماعت ہے۔ مطلب یہ کہ مزید لنگوٹیاں حاصل کرنے کے امکانات کم سے کم دو ہفتوں کے لیے معدوم ہو گئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب پر اعتماد کے ووٹ کا عمل جاری ،........

© Nawa-i-Waqt


Get it on Google Play