ایران امریکہ جنگ بندی:مالی و جانی نقصان کے باوجود ایران کیسے فائدے میں رہا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی بالآخر عارضی جنگ بندی پر ختم ہوگئی ہے جس کے تحت دونوں فریق دو ہفتوں کیلئے جنگ روکنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی اس جنگ نے جہاں خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا وہیں اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور سیکیورٹی پر بھی گہرے مرتب ہوئے۔ بظاہر دیکھا جائے تو ایران کو اس جنگ کے دوران مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنی عسکری صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں آسان ہدف نہیں ہے۔ اس جنگ نے ایران کے عزم اور دفاعی حکمت عملی کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا اور یہ پیغام دیا کہ وہ آخری دم تک مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز: ایک اسٹریٹیجک کامیابی ایران کی سب سے بڑی کامیابی آبنائے ہرمز کے معاملے میں سامنے آئی ہے۔ یہ عالمی سطح پر ایک اہم تجارتی راہداری ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماضی میں کسی ایک ملک کی اس پر واضح اجارہ داری تسلیم نہیں کی جاتی تھی لیکن اس جنگ کے دوران ایران نے جس طرح اس راہداری کو کنٹرول کیا اور پھر اپنی شرائط پر کھولااس سے اس کی اسٹریٹیجک حیثیت مضبوط ہوئی۔ اب ایران خود کو اس اہم گزرگاہ کا ایک مرکزی فریق ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ معاشی پابندیوں میں نرمی اور نئے مواقع امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد سخت معاشی پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید متاثر کیا تھا تاہم جنگ بندی کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ایران نے مختلف ممالک کے ساتھ دوبارہ تجارتی روابط قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی تیل کا پہلا بحری جہاز بھارت کی جانب روانہ ہو چکا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران کیلئے معاشی دروازے دوبارہ کھل رہے ہیں اس پیش رفت کو ایران کی ایک بڑی سفارتی اور معاشی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کا بیانیہ کمزور اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو خلیجی ممالک کی سیکیورٹی اور معیشت سے متعلق دعووں پر پڑنے والا اثر ہے۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں خود کو دنیا کے محفوظ ترین خطوں میں شمار کرواتی تھیں اور ان کی معیشت بھی اسی تصور پر استوار تھی مزید برآں ان ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہونے کی وجہ سے انہیں ایک مضبوط دفاعی حصار حاصل تھا۔تاہم ایران نے اس جنگ کے دوران ان دعووں کو چیلنج کیا اور یہ واضح کر دیا کہ یہ ممالک مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خلیجی ممالک کے سیکیورٹی بیانیے کو کمزور کیا بلکہ ان کی معاشی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خطے میں طاقت کے توازن میں اس تبدیلی کا براہ راست فائدہ ایران کو پہنچ سکتا ہے۔ جنگ سے ابھرتی نئی طاقت اگرچہ یہ جنگ وقتی طور پر رکی ہے لیکن اس کے اثرات طویل المدت ہوں گے۔ ایران نے اس پورے تنازعے میں اپنی سیاسی، عسکری اور معاشی حیثیت کو ایک نئی جہت دی ہے نقصان کے باوجود حاصل ہونے والے اسٹریٹیجک فوائد اسے خطے میں ایک مضبوط اور خودمختار طاقت کے طور پر ابھار رہے ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں تھی بلکہ بیانیے، حکمت عملی اور اثر و رسوخ کی جنگ تھی اور اس میدان میں ایران نے خود کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر منوا لیا ہے۔ محمد فہیم
