دو جانیں، ایک معافی :کیا انصاف پھر طاقتور کے در پر ہار گیا؟
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکوٹی حادثے میں جاں بحق ہونے والی دو نوجوان لڑکیوں کے کیس میں حیران کن طور پر گرفتار ملزم کی معافی اور فوری رہائی نے ایک بار پھر ہمارے نظامِ انصاف کی کمزور بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والی لڑکیوں کے والدین نے ملزم کو معاف کردیاجس کے بعد کیس ختم اور ضمانت منظور ہوئی۔
بظاہر تو یہ ایک قانونی کارروائی تھی مگر اس کے پیچھے چھپیں تلخ حقیقتیں ہمارے سماجی، عدالتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر کئی اہم سوالات چھوڑ جاتی ہیں۔
ملک خداداد میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی سانحات میں دیکھا گیا ہے کہ جب ملزم بااثر ہو، معاشرتی حیثیت مضبوط ہو یا سرکاری عہدہ قریب سے جڑا ہو تو صلح اور معافی کا راستہ بڑی تیزی سے ہموار ہوجاتا ہے۔
چند ماہ قبل کراچی میں بھی ایسا ہی ایک حادثہ پیش آیا تھا جہاں ایک امیر گھرانے کی خاتون کی گاڑی سے تین افراد جاں بحق ہوئے، لیکن انجام تقریباً وہی صلح اور معافی۔
یہاں سوال یہ ہے کہ آخر غریب آدمی ہی کیوں ہر بار صلح پر مجبور ہوتا ہے؟کیا یہ معافی کسی دل کی کشادگی کا نتیجہ ہوتی ہے یا نظام کی طاقت کے آگے بے بسی کا؟
قانونی پیچیدگیاں اور غریب کے کندھوں پر انصاف کا بوجھ
پاکستان کے عدالتی نظام میں قتل یا حادثاتی........
