2025 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

فلسطین میں جاری ظلم و جبر تھمنے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے، تاہم اس کے برعکس دنیا بھر کے ممالک بشمول یورپی یونین میں شامل ممالک فلسطین کو تسلیم کر کے ثابت کر رہے ہیں کہ حق کا سورج طلوع ہونا شروع ہو گیا ہے، فرانس کے سفارتی اقدامات نے عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی راہ کسی حد تک تو ہموار کر دی ہے، لیکن 2025 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ دنیا کی نظریں اس جانب لگی ہوئی ہیں۔
2025 میں لہو لہو فلسطین 2026 میں داخل ہونے جا رہا ہے، لیکن تاحال یہ علاقہ امن کا متلاشی ہے، کہ امریکہ دنیا بھر کے ممالک کو تو چٹکی میں قابو کر لیتا ہے، بڑی بڑی جنگیں رکوا دیں، پر اس سے ایک اسرائیل قابو نہیں ہو رہا، اور وہ امن معاہدہ کے باوجود غزہ میں آگ اور خون کا کھیل کھیل رہا ہے، اور بڑی بے شرمی سے اس سلسلے میں امریکہ کے صدر سے ہی جا کر ملاقاتیں کر کے آگےکا پلان سیٹ کر رہا ہے، ایسے میں فرانس کا ایک قدم آگے آ کر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا فلسطین کیلئے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس اقدام کے متعدد مسائل بھی سامنے آ گئے ہیں۔
سفارتی مہم کا آغاز
ادھر فرانس کے اس اقدام نے ایک وسیع تر سفارتی مہم کو جنم دیا، جس میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کا نتیجہ 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیو یارک اعلامیہ کی منظوری کی صورت میں سامنے آیا، اس اعلامیہ میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کو ضروری اور لازمی قرار دیا گیا۔ اعلامیہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کو تسلیم کرنے کے بعد اسے دوبارہ سے غیر تسلیم شدہ قرار دینا اور اس قسم کے دیگر اقدامات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی، اور یہ سارا کیا دھرا سیاسی حل پر مبنی تھا، جس میں دو ریاستی حل کو مرکزی حیثیت دی گئی، تاہم اس سارے عمل میں حماس کو باہر رکھا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے عزائم کیا ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل پر دباو کی حقیقت
اگرچہ 2025 میں فلسطینی........

© Mashriq