دہشت گردی کا خاتمہ، آپریشن اور مذاکرات پر اختلافات کیوں؟

ایسا لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال اور صوبے میں قیام امن کے طریقوں پراختلافات کی اونٹ کی گردن اتنی ٹیڑھی ہوتی جارہی ہے کہ منحنی گردن کی کوئی کل سیدھی نہیں، وفاقی حکومت اور پاک فوج صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور صوبے کو اس لعنت سے پاک کرنے کیلئے آخری آپشن یعنی طاقت کااستعمال اور آپریشن ہی کوحل نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے سرحد پار مراکز کو بھی نشانہ بنانے کوبھی تیار ہے۔
عملی طور پر ایسا ہونے کے بعد سرحد کی دو طرفہ بندش کے دن طویل سے طویل تر ہوتے جارہے ہیں، دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کاموقف مذاکرات بات چیت اور پرامن حل نکالنے کا ہے، اس ضمن میں عمائدین کے جرگے سے بھی ان کو اسی کا مشورہ ملا، اب صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی نے آئی جی خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ و قبائلی امور کوسننے کے بعد اب خلاف روایت کور کمانڈر پشاور کو طلبی کا مراسلہ جاری کر دیاگیا ہے۔
خط میں معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر کور کمانڈر پشاور سے درخواست کی گئی ہے کہ خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی کو صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں کسی باہمی طور پر موزوں تاریخ اور وقت پر ان کیمرہ بریفنگ دی........

© Mashriq