روس اور چین سے تحفظ کے چکر میں ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کے خواب دیکھنے لگے
عالمی نقشہ بگاڑنے پر تلے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے متنازع اور غیر روایتی رہی ہے، اپنی عجیب و غریب حکمت عملی کے باعث ٹرمپ متعدد بار دنیا کو حیرت میں ڈال چکے ہیں، ان کے تازہ خطاب اور پالیسی اقدامات نے نہ صرف دنیا کے کئی ممالک کو پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ امریکی عوام بھی ان کی غیر روایتی اندازِ حکمرانی پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں، ایک طرف تو وہ مسلسل جنگوں کی روک تھام کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ دنیا کے مختلف حصوں میں براہ راست مداخلت کرتے نظر آتے ہیں، وینزویلا کے صدر کے خلاف کارروائی سب کے سامنے ہے جس میں انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کر کے سیدھا امریکہ پہنچا دیا، اب اس کےبعد روس اور چین سے تحفظ کے چکر میں ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کی منصوبہ بندی کرتےنظر آ رہے ہیں، ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش اسی غیر روایتی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے، جو دنیا کیلئے حیران کن حد تک پریشانی کا باعث ہے، لیکن امریکی صدر سے کچھ بھی بعید نہیں کہ کب وہ کیا کر بیٹھیں۔ امریکی بالادستی اور طاقت کا جس طرح بین الاقوامی طو پر بلا جواز اور غیر قانونی استعمال ٹرمپ کے دوسرے دور میں دیکھنے میں آ رہا ہے اس نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے لا کھڑا کیا ہے۔
ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کی پالیسیوں میں کئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں، انہوں نے اکثر اپنے خطابات میں دنیا بھر کی جنگوں کو رکوانے کا کریدٹ لیا اور ان جنگوں کو رکوانے میں ٹرمپ کا بنیادی فریم ورک ہمیشہ تجارتی تعلقات اور ٹیرف پر مبنی رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر امریکہ دنیا بھر میں اپنی تجارتی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے تو اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ جنگوں کے امکان میں بھی کمی آئے گی۔ اس حکمت عملی کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کے لئے خود کو ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا، اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ لاکھوں جانوں کو بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔
اس تمام تر صورتحال کے ہوتے ہوئے ٹرمپ نے وینزویلا میں مداخلت کر کے سب کو چونکا دیا اور صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا، یہ کارروائی امریکی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر گئی،........
