گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اور حکومت کی منصوبہ بندی
حکومت گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لئے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
اس امر کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے، حکومت اس کے باوجود بھی اضافہ پر تلی ہوئی ہے، جب پہلے ہی پٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لئے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
نومبر2025کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 26-2025 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا گیا تھا، قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لئے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، تاہم وزیر پٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں........
