menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اور حکومت کی منصوبہ بندی

13 0
09.01.2026

حکومت گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لئے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ واضح رہے کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
اس امر کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے، حکومت اس کے باوجود بھی اضافہ پر تلی ہوئی ہے، جب پہلے ہی پٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لئے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
نومبر2025کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 26-2025 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا گیا تھا، قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لئے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، تاہم وزیر پٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں........

© Mashriq