امن اورہر قیمت پر امن
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم یہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشت گردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔ دہشت گردی اور فتنہ الخوارج دونوں ہم معنی لفظ بن گئے ہیں، اس میں تفریق کی گنجائش ہے اور نہ ہی ٹی ٹی پی کی گھما پھرا کر حمایت کی گنجائش ہے، اور ہمیں یہاں امن اورہر قیمت پر امن چاہئے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کی سیاسی و حکومتی وابستگی اورحمایت جس بھی سیاسی جماعت اور شخصیت کے ساتھ ہو صوبہ بھر کے عوام کی سو فیصد نہیں تو غالب ترین اکثریت کی صوبے میں دہشت گردی کرنے والے عناصر سے کوئی ہمدردی نہیں، کسی بھی امن پسند شہری سے یہ توقع رکھنا حماقت ہو گی کہ وہ اپنے بچوں کے قاتلوں سے ذرا بھی ہمدردی رکھے، عوام ہروقت........
