خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی میں رکاوٹ کیوں؟
بیجنگ میں ہونے والے چین پاکستان وزرائے خارجہ سٹریٹجک مذاکرات کے ساتویں دور میں دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے تمام دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کے لئے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھائے جائیں، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے سنگین خطرات کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کر سکیں اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے لئے خطرہ پیدا کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے افغان مسئلے پر قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں منعقد ہونے والے گرینڈ امن جرگے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے متفقہ طور پر پندرہ نکاتی ایجنڈے میں واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں........
