5 ستمبر مودی سرکار کا آخری دن؟ |
مودی سرکار 2014 سے لے کر اب تک تین بار عام انتخابات جیت چکی ہے مگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے عوامی مفاد کے کاموں کی وجہ سے الیکشنز جیتی تو یہ غلط ہی ہوگا۔ ان کے الیکشنز جیتنے کا انحصار گودی میڈیا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVM) پر رہا ہے اس کا EVM اور گودی میڈیا کے پروپیگنڈے کے ذریعے الیکشنز جیتنا اپوزیشن پارٹیوں میں واضح طور پر تنقید کا موضوع بنا ہوا ہے مگر اسے کیا کہیے کہ یہی تو دراصل مودی حکومت کی لائف لائن ہیں۔
ویسے اکثر EVM سے زیادہ گودی میڈیا حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔ لفظ گودی میڈیا کا سب سے پہلے استعمال بھارتی صحافی رویش کمار نے کیا تھا، انھوں نے یہ اصطلاح بھارت میں جاری کسان احتجاج کے دوران استعمال کی تھی، یہ 2020-21 کی بات ہے۔
اب وہ خود اپنا چینل چلا رہے ہیں۔ اس وقت بھارت میں پچاس کے قریب چینل گودی میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ مودی سرکار کی تعریفوں کے پل باندھتے رہتے ہیں۔ گودی میڈیا نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی بلکہ راشٹریہ سیوک سنگھ کا پرچار کرنے میں محو ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا روز کا معمول ہے۔
بھارتی غیر جانبدارتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے بھارتی صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ صرف اس سیاسی پارٹی کی وجہ سے بھارت میں صحافت کا کوئی معیار نہیں رہا ہے۔ گودی میڈیا........