2025 : پاکستان و بھارت سمیت عالمی صحافیوں پر کیسا گزرا؟ |
زندہ قومیں ہر گزرتے لمحے اپنا کڑا، سخت اور بے لاگ احتساب کرتی ہیں ۔ جو اقوام دانستہ اور غفلت سے اپنے احتساب سے گریزاں رہتی ہیں ، زوال اور بے اعتباری اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔
شائد اِسی پس منظر میں شاعرِ مشرق نے کہا تھا: صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم / کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب۔ 2025 کے گزرے سال کی منجھی تلے جب ہم ڈانگ پھیرتے ہیں تو ایک بھی قابلِ فخر شئے ہاتھ نہیں لگتی ۔ یہ گزرا برس اظہارِ آزادی کے لحاظ سے مزید سمٹ اورسکڑ کر رہ گیا ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بہتری نہ آ سکی کہ سرکاری قدغنیں مزید بڑھ گئی ہیں ۔ کئی صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم کیے گئے اور صحافتی فرائض ادا کرتے ہُوئے کئی صحافی اپنی جانوں سے گئے، پیکا ایکٹ عامل صحافیوں کے تعاقب میں رہا ۔ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی مزید نیچے گر گئی ۔
پاکستان بھر میں صحافیوں پر اغوا، قتل اور تشدد کے واقعات کی تعداد230سے بڑھ گئی ۔ پاکستان میں Media Forum Reportکو پاکستان کے شہید صحافیوں کے نام کیا گیا ۔ تین ملکی و غیر ملکی مستند صحافتی اداروں نے 2025 کے دوران بالترتیب 3 اور8اور 5پاکستانی صحافیوں کے قتل کی رپورٹ شائع کی ہے ۔ عالمی نگران اداروں نے مجموعی طور پر2025 کو پاکستانی صحافیوں کے لیے Bleak Year( بھیانک سال) قرار دیا ہے ۔ کیا ہم اِس ’’سند‘‘ پر فخر کر سکتے ہیں؟ اِس مبینہ ’’بھیانک سال‘‘ کا احساس و خیال وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھوں نے عملی صحافت کی اوکھلی میں، کسی نہ کسی شکل میں، سر دے رکھا ہے ۔ بیرونِ دریا بیٹھنے والے اِن مسائل و مصائب کا احساس کر ہی نہیں سکتے ۔
پاکستان کے دونوں ہمسایہ ممالک ( بھارت و افغانستان) میں بھی،2025 کے دوران، صحافت اور صحافی دباؤ ، ظلم اور استحصالوں سے گزرے ۔2025 میں مودی کی متعصب اور نسل پرست حکومت نے مخالف بھارتی صحافیوں کی زندگیاں اجیرن بنائے رکھیں۔ یوں بھارت میں’’ گودی میڈیا‘‘........