ہمارے گوالے فرعون سے زیادہ ذہین

فرعون کی سوجھ بوجھ پر ایک پھبتی تو اکبرالہ آبادی نے کسی تھی کہ

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

لیکن آج ہم اس کی سوجھ بوجھ پر جو پھبتی کس کرمارنا چاہتے ہیں وہ اس سے بھی بڑی ہے اکبرالہ آبادی نے تو اس کی سوجھ بوجھ کو لارڈمیکالے سے کم ثابت کیا ہے اور ہم ثابت کریں گے کہ اس کی سوجھ بوجھ پاکستان کے ’’گوالوں‘‘ سے بھی کم تھی۔لیکن پہلے ہم اپنے پڑھنے والوں کو فرعون کے بارے میں کچھ ویر اباوٹ بتانا چاہتے ہیں کیونکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فرعون صرف ایک تھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو واسطہ پڑا تھا لیکن فرعون ایک نہیں سیکڑوں گزرے ہیں یہ دراصل مصری بادشاہوں کا لقب تھا۔

جو ہر بادشاہ کو حاصل ہوتا تھا لفظ’’فرعون‘‘دراصل ’’فا۔ را‘‘کی معرب شکل ہے’’فا‘‘ بمعنی بیٹا اور ’’را‘‘ بمعنی ’’رادیوتا۔ ’’را‘‘ مصریوں کا رب الارباب یعنی سب دیوتاؤں سے بڑا تھا جو ’’سورج‘‘تھا، ان کا عقیدہ تھا کہ آسمان ایک گائے اور سورج اس کا بچھڑا۔پھر اس کے اور بھی کئی نام تھے ’’آمن را‘‘ صبح کا سورج تھا اور ’’آتن را‘‘یہ خطاب صرف اور صرف مصری النسل بادشاہوں کو ہی حاصل نہ تھا بلکہ جو بھی مصر کا بادشاہ ہوجاتا تھا پروہت’’فارا‘‘ کا خطاب پلیٹ میں رکھ کر اسے پیش کردیتے تھے چنانچہ تیس خاندانوں اور دوسری نسلوں کے فراعین بھی گزرے ہیں۔

عرب لیبائی، یونانی، ایرانی........

© Express News