بنگلادیش الیکشن 2026: اقتدار کی سیاست میں نئے امکانات |
بنگلا دیش میں متوقع عام انتخابات 2026 محض ایک آئینی عمل نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی کشمکش کا منطقی انجام بننے جا رہے ہیں۔ یہ الیکشن اس سوال کا جواب دیں گے کہ کیا بنگلا دیش واقعی جمہوری راستے پر واپس آ رہا ہے یا اقتدار کی پرانی سیاست نئے چہروں کے ساتھ خود کو دہرانے جا رہی ہے۔ پندرہ برس سے زائد عرصے تک برسراقتدار رہنے والی عوامی لیگ، ایک بار پھر عوامی احتساب کے کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیتی ہے، جبکہ بنگلا دیش نیشنل پارٹی (BNP)، جماعت اسلامی اور نئی نیشنل سٹیزن پارٹی ایک نئے سیاسی منظرنامے کی تشکیل میں مصروف ہیں۔
سیاسی فضا کا اگر غیر جانب دار جائزہ لیا جائے تو اس وقت بنگلا دیش نیشنل پارٹی واضح طور پر سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ عوامی لیگ کی طویل حکمرانی، ریاستی اداروں پر غیر معمولی کنٹرول، اپوزیشن کے خلاف سخت اقدامات اور یکطرفہ انتخابات نے عوام کے ایک بڑے حصے میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ یہی بے چینی BNP کے لیے سیاسی سرمایہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر انتخابات نسبتاً شفاف ہوئے اور عوامی لیگ مکمل قوت کے ساتھ میدان میں نہ آسکی تو BNP کے لیے پارلیمانی اکثریت کوئی بعید از قیاس امر نہیں۔
تاہم یہ معرکہ یک طرفہ نہیں۔ جماعت اسلامی، جسے ماضی میں سیاسی طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، اب ایک بار پھر منظم اور متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ مذہبی ووٹر، شہری متوسط طبقہ اور نظام سے نالاں حلقے جماعت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ کئی حلقوں میں BNP اور جماعت اسلامی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے،........