ریاکاری کے دور میں سنتِ ابراہیمی کا امتحان: جانوروں کی قیمتوں کا تفاخر یا خلوصِ نیت کا تقاضا؟
عید الاضحیٰ محض ایک روایتی تہوار یا گوشت کے تبادلے کا نام نہیں، بلکہ یہ دلوں کے تقویٰ اور نیتوں کے خلوص کو پرکھنے کا الٰہی میزان ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں نمائش اور سوشل میڈیا کی دوڑ سے نکل کر اپنے سفید پوش پڑوسیوں کے حقوق کی پاسداری ہی اس عبادت کی اصل روح ہے.
عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف قربانی کے جانوروں کی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے، جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار ہے۔ اسلام میں قربانی محض ایک جانور ذبح کرنے یا گوشت کھانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا ایک عظیم الشان فریضہ ہے۔
قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے قربانی کی اصل روح کو واضح کرتے ہوئے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس الٰہی فرمان سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں جانور کی قیمت یا اس کا وزن نہیں دیکھا جاتا، بلکہ بندے کی نیت، اس کا خلوص اور دل کا وہ تقویٰ دیکھا جاتا ہے جو اس پوری عبادت کی اصل بنیاد ہے۔
آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے، وہاں بدقسمتی سے ہماری اس عظیم عبادت میں بھی دکھاوا اور ریاکاری تیزی سے شامل ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ مہنگے سے مہنگا جانور اس نیت سے خریدتے........
