menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

حلال رزق، کالی راتیں اور ریاست کا بے رحم بوجھ

53 0
09.05.2026

یہ تحریر اس مجبور باپ کی پکار ہے جو کرپشن کے اس نظام میں اپنے بچوں کو حلال کھلانے کی جنگ لڑ رہا ہے اور جس کے لیے اب جینا ایک معجزہ بن چکا ہے- اور وہ ہاتھ اٹھا کر کبھی اپنے رب سے دعا مانگتا ہے کبھی یہ ان حکمرانوں کی طرف دیکھتا ہے-

پاکستان کی مٹی سے محبت کرنے والے ایک عام انسان کے لیے آج کل زندگی جینا کسی جہاد سے کم نہیں رہا۔

 ہم وہ لوگ ہیں جو صبح کی پہلی کرن کے ساتھ اس امید میں گھر سے نکلتے ہیں کہ شام کو جب لوٹیں گے تو بچوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ خرید سکیں گے۔ ہماری کل کائنات وہ تیس ہزار روپے کی تنخواہ ہے جسے ہم مہینے کے تیس دنوں پر اس طرح تقسیم کرتے ہیں جیسے کوئی پیاسا صحرا میں پانی کی بوند بوند بچاتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں، جہاں ریاست کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو شاید موت بھی یاد نہیں رہی، وہاں ہم جیسے سفید پوشوں کے لیے سانس لینا بھی ایک ٹیکس بن چکا ہے۔

ظلم کی انتہا دیکھیے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، دنیا بھر میں عوام کو ریلیف مل رہا ہے، لیکن ہمارے ہاں رات کے اندھیرے میں پٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کردیا گیا۔ یہ کیسا نظام ہے کہ عالمی منڈی کی کمی کا فائدہ کبھی غریب کی جیب تک نہیں پہنچتا، لیکن وہاں ہونے والا ذرا سا اضافہ یہاں مہنگائی کا طوفان بن کر ٹوٹتا ہے؟ پٹرول کا مہنگا ہونا صرف ایک فیول کا مہنگا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ اس مزدور کی سواری، اس کے بچوں کے دودھ اور اس کے گھر کے راشن پر براہِ راست ڈاکہ ہے۔

میرا درد صرف میرا نہیں، یہ پاکستان کی ان گلیوں کا درد ہے جہاں ایک باپ حبس بھری رات میں اپنے بچوں کو پنکھے کے نیچے سے ہٹا کر چھت پر لے جاتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہے کہ اس باپ کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جو تپتی........

© Express News (Blog)