menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قرض کی زنجیریں اور ایٹمی طاقت کا تضاد: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

33 0
07.05.2026

​پاکستان کی تاریخ آج ایک ایسے مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں تضادات نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ایک طرف ہم عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہونے کا فخر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، تو دوسری جانب ہماری معیشت کی سانس آئی ایم ایف کی قسطوں کی آکسیجن پر چل رہی ہے۔

یہ کیسی خود مختاری ہے کہ ہمارے بجٹ کی فائلیں واشنگٹن کے اشاروں کی محتاج ہیں؟ یہ سوال اب محض ایک سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ یہ ہماری قومی غیرت اور بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اگر ہم معاشی طور پر کسی کے دستِ نگر ہیں، تو ہماری آزادی محض ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔

​آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے وسائل اور تقدیر پر چند مخصوص خاندانوں اور گروہوں کا قبضہ ہے۔ دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں وہی چہرے نظر آتے ہیں جنہوں نے ریاست کو اپنی ذاتی جاگیر میں بدل دیا ہے۔ ان کی جائیدادیں سرحد پار پھیلتی جا رہی ہیں، ان کے بچے دیارِ غیر کے تعلیمی اداروں میں پرورش پا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کا عام شہری بجلی کے بلوں، آٹے کے بحران اور ادویات کی مہنگائی کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔

کیا 25 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ ان بند کمروں میں ہوگا جہاں عام آدمی کی آواز پہنچ ہی نہیں پاتی؟ اشرافیہ کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے ملک کے معاشی حالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم پورا ملک ان چند مفاد پرست گروہوں کے........

© Express News (Blog)