امریکا پاکستان کو کس بات کی سزا دے رہا ہے؟
ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں خطے کو اپنے مفادات کی آگ میں جھونکنے کے لیے تیار بیٹھی تھیں، پاکستان نے ایک غیر متوقع اور جرات مندانہ سفارتی پیش رفت کے ذریعے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ محض ایک صلح کی کوشش نہیں تھی، بلکہ پاکستان کی جانب سے اس خود مختارانہ خارجہ پالیسی کا اعلان تھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے حالیہ چند دن تاریخ کے اہم ترین موڑ ثابت ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ جنگ کے بادلوں میں گھرا ہوا تھا، پاکستان نے ایک ذمے دار ایٹمی قوت کے طور پر وہ کردار ادا کیا جس کی توقع صرف ایک بڑا ملک ہی کر سکتا ہے۔ کل تک کی خبریں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ اسلام آباد نے ایران اور دیگر فریقین کے درمیان صلح کی ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے جس سے خطے میں خونریزی کا خطرہ ٹلتا نظر آیا۔ پاکستان کی اس ’’شٹل ڈپلومیسی‘‘ نے ثابت کردیا کہ عالمی سیاست میں پاکستان کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔
تاہم، سفارت کاری کی اس بساط پر جیسے ہی پاکستان کی کوششیں بارآور ہونا شروع ہوئیں، اچانک امریکی ایوانوں سے کچھ ایسی خبریں آئیں جنہوں نے امن کے اس عمل کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا۔ آج کی سب سے بڑی اور کڑی خبر یہ ہے کہ امریکا نے اس صلح کے بدلے ایسی شرائط سامنے رکھ دی ہیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے قبول کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے۔ ان شرائط میں سب سے نمایاں ایران-پاکستان (IP) گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل طور پر ختم کرنا اور ایران کا چین کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی و عسکری تعاون ہے۔
امریکا کا یہ مطالبہ کہ ایران چین سے جدید اسلحہ نہ خریدے یا اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیجنگ پر انحصار کم کرے، دراصل اس وسیع تر عالمی سرد جنگ کا حصہ ہے جو واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری ہے۔ پاکستان اس وقت اس چکی کے دو پاٹوں کے........
