اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟

یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔

سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔

لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر........

© Dawn News TV