پی آئی اے نجکاری کے بعد بھی کب تک خسارے میں رہے گی؟

ہم اُمید کرتے ہیں کہ برسوں بعد کی جانے والی ہماری پہلی بڑی نجکاری پی آئی اے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم اس عمل میں سنگین خامیاں رہیں، جن سے آئندہ بچنا ضروری ہے۔ پی آئی اے کے ماضی کے بھاری نقصانات نے ایئرلائن کی اصلاح کو ناگزیر بنا دیا تھا، لیکن اس کے باوجود 2024 میں اس نے 26 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا (جبکہ 2023 میں اسے 100 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا) جو بنیادی طور پر اس کے کھاتوں سے قرضوں کے بڑے حصے کے خاتمے اور ایک مرتبہ دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہمارے پاس ایک مضبوط اور شفاف عمل اپنانے کا وقت موجود تھا۔

یہ واضح نہیں کہ ریاست کی جانب سے 100 ارب روپے کی کم از کم بولی اور 75 فیصد حصص کی 135 ارب روپے میں فروخت واقعی منصفانہ تھی یا نہیں۔ کسی ادارے کی قیمت اس کے خالص اثاثوں سے نہیں بلکہ مستقبل میں متوقع آمدنی کی موجودہ قدر سے متعین ہوتی ہے۔

ایئرلائنز کو بڑے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ رائٹس سے بھی اضافی قدر حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ریاست نے یہ واضح نہیں کیا کہ کم از کم قیمت کیسے طے کی گئی، اس لیے شکوک پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2024 میں منافع پہلے ہی ظاہر ہوچکا تھا جبکہ اس کی بہترین روٹس پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی بڑی آپریشنل اصلاحات کی گئی تھیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار اس ممکنہ طور پر کم 135........

© Dawn News TV