We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

قومی خزانے کے منہ خواص کے لیے کُھلے، عوام کے لیے بند

5 2 22
20.03.2019

یہ کتنی اچھی بات ہے کہ جب معاملہ قومی مفاد کا ہو تو حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کی ساری خطائیں معاف کرکے آج کل کے معروف محاورے کے مطابق ایک صفحے پر آجاتی ہیں اور عموماً یہ صفحہ چیک بُک کا ہوتا ہے، جیسے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے معاملے میں ہوا ہے۔

ایک خبر کے مطابق، ’قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہوتے ہی کمیٹیوں کے چیئرمین اور اراکین کے لیے قومی خزانے کے منہ کھول دیے گئے ہیں۔‘ یہ خبر بتاتی ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کو نئی 1300 سی سی گاڑیوں سمیت 72 ہزار روپے سے زائد کی اضافی مراعات اور اعزازیہ دیا جائے گا، جبکہ اراکین کو 3 سے 5 ہزار روپے تک ٹریولنگ اور اسپیشل الاؤنس ملے گا۔ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین اور ارکان بطور رکن اسمبلی بھی مراعات اور تنخواہیں وصول کرتے رہیں گے۔

خبر میں یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ فریقین میں سے کسی نے بھی ان مراعات پر اعتراض یا کوئی سوال کیا ہو، اس کے بجائے یہ سب حکومت اور حزبِ اختلاف کے کامیاب مذاکرات کے بعد بڑی خوش اسلوبی اور باہمی رضامندی سے طے پایا ہے۔

آپ کہیں گے کہ یہ قومی مفاد کا معاملہ کیسے ہوا؟ آپ نے شاید وہ اشتہار نہیں دیکھا جس میں ایک بچہ کہتا ہے ’کھاؤں گا نہیں تو بڑا کیسے ہوں گا؟‘

تو بھئی ہمارے منتخب ارکان مراعات اور اعزازیے کھائیں گے تب ہی........

© Dawn News TV