We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

آؤ یہ دن بھی منائیں

9 2 34
14.02.2019

ہمارے ملک میں چاند نظر آنے سے کوئی دن منانے تک کم ہی معاملات غیر متنازعہ ہیں۔ تنازعہ ہمارا پسندیدہ کھیل ہے۔ کوئی جگہ ہو یا کوئی موقع ہم ’آو تنازعہ تنازعہ‘ کھیلیں کہہ کر اس کھیل میں مگن ہوجاتے ہیں۔

لیٹے ہوئے مُردے کے پہلو سے مسلکی اختلاف اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کوئی بھی رسم یا عمل ایمان کا مسئلہ بن کر جان کو آجاتا ہے۔ شادی کے موقع پر بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ کار میں دلہا کے ساتھ کون بیٹھے گا کا سوال اتنا سنگین ہوجاتا ہے کہ بارات میں تاخیر کے باعث بے چارے دلہا کا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ تنازعے کا یہ کھیل جب کسی دن منانے کے میدان میں کھیلا جاتا ہے تو ہر فریق دن منانے سے زیادہ اپنی بات منوانے میں جُت جاتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے بھی ایک ایسا ہی موقع ہے۔ یہ دن ہمارے ہاں مغرب سے تازہ تازہ آیا ہے۔ کرنے والے اس سے پہلے بھی محبت کیے جارہے تھے، اگرچہ یہ یوم محبت نہیں مناتے تھے لیکن محبوبہ کو پورا سال مناتے تھے۔ پارک میں پکڑے جانے پر پولیس والوں کو منانا، خط بھیجنے کے لیے محلے کے کسی بچے کو منانا، آخرکار شادی کے لیے اپنے اور محبوبہ کے ماں باپ کو منانا اس کے علاوہ تھا۔

اتنا کچھ منانے والوں پر ویلنٹائن ڈے منانے کی رسم افتاد کی طرح آپڑی۔ اس دن کے چرچے نے ان کا خرچہ بڑھا دیا۔ ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے یہ دن ’صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا’ کے مصداق ہوگیا جو اخلاق کی درستی یا کسی تیکنیکی خرابی کے باعث بھری جوانی میں بھی محبت نہیں کرتے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ’میں پھول اٹھا کر جاؤں کہاں اور چاکلیٹ لاؤں کس کے لیے۔‘

ایسے حضرات کا دل رکھنے، ویلنٹائن ڈے کی جینز پر مشرقی شلوار........

© Dawn News TV