We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

’بیماری آپ کی دہلیز پر‘

2 1 11
01.02.2019

ٹشو پیپر 2 طرح کے ہوتے ہیں، ایک تو ہوتے ہیں نِرے ٹشو پیپر جو ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور دوسرے ہیں وہ ٹشو پیپر جو ہر طرح کے ہوتے ہیں بس ٹشو پیپر کی طرح کے نہیں ہوتے۔

یوں سمجھ لیں کہ ہوتے تو وہ کچھ اور ہیں مگر انہیں ٹشو پیپر سمجھ اور بنادیا جاتا ہے۔ چلیے آپ کے لیے بات اور آسان کردیں۔ ہم ’ٹشو پیپر یُگ‘ میں جی رہے ہیں۔ اس دور میں افراد سے اقوام اور سیاسی جماعتوں سے ٹیکنالوجی کی جدتوں تک سب ٹشوپیپر ہیں، استعمال کیا اور پھینکا۔

کارِ سیاست اور معاملاتِ ریاست تو اکثر چلتے ہی ٹشو پیپر پر ہیں۔ سیاست کے ٹشو پیپروں کا مقدر بیلٹ پیپروں پر منحصر ہوتا ہے، اگر ان کے ٹھپوں والے بیلٹ پیپر بہت ہی کم ہوں تو ان کی کم بختی آجاتی ہے، پھر انہیں انتخابات کی مشقت میں آنے والا پسینہ پونچھ کر پھینک دیا جاتا ہے اور یہ بے چارے پوچھتے ہی رہ جاتے ہیں،’پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔‘

جو کچھ ہمیں کہنا ہے یہ اس کی تمہید تھی، جو ذرا طویل ہوگئی۔ خیر تمہید اور کمر بند طویل ہی باندھنا چاہیے۔ ٹشو پیپر کے بارے میں خیالات کا یہ سلسلہ ایک خبر پڑھ کر بندھا۔ اس خبر کے مطابق ایک امریکی کمپنی نے لوگوں کو بیمار کرنے والے ٹشو پیپر بنائے ہیں جن میں چھینکوں اور زکام والے جراثیم شامل ہیں۔ ان کے ایک پیکٹ کی قیمت 80 ڈالر یعنی 11 ہزار پاکستانی روپے ہے۔

لاس اینجلس میں........

© Dawn News TV