We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کیا افغانستان میں امن کا سفر شروع ہوچکا ہے؟

9 2 3
31.01.2019

امریکا اور افغان طالبان ڈرافت فریم ورک پر ڈیل کے کافی قریب آچکے ہیں جسے افغان امن مذاکرات میں ہونے والی سب سے ٹھوس پیش رفت کہا جا رہا ہے، یہ وہ ڈرافٹ ہے جو فریم ورک امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اس میں کئی رکاوٹیں باقی ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے مستحکم مذاکراتی عمل سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر منطقی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

غیرمعمولی طور پر یہ اہم پیش رفت ایسے وقت کے بعد ہوئی ہے جب مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگئے تھے، ایک طرف طالبان اس مذاکراتی عمل سے پوری طرح سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رہے تھے تو دوسری طرف امریکا کے لہجے میں سختی آتی جا رہی تھی۔ مذاکراتی عمل کے چیف زلمے خلیل زاد نے تو یہاں تک اشارہ دے دیا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکا فوجی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ سب کچھ گزشتہ برس کے آخر میں ابو ظہبی میں امریکی اور طالبان نمائندگان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی، اور اس ملاقات کا اختتام مثبت نوٹ پر ہوا۔ مگر طالبان کی جانب سے شہر میں موجود کابل حکومت کے نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل کے نتیجے اور موڈ کا رخ ہی مُڑ گیا۔

چند اطلاعات کے مطابق خلیل زاد کو سعودی عرب کی جانب سے یہ گارنٹیاں دی گئی تھیں کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ تاہم آخری لمحے میں طالبان اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور مختلف افغان دھڑوں کے درمیان موجود تحفظات کو وجہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک امن مذاکرات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ان دھڑوں کی جانب سے تھوڑی بہت لچک نہ دکھائی جائے۔ طالبان کے اس انکار پر........

© Dawn News TV