Munazra, Dalail Aur Shawahid (5) |
ہم نے پچھلے کالموں میں ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے نظرّیہ الحاد کا یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود تخلیق ہونے کا جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ یہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جب کہ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدﷺ کے نظرّیۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
فرض کریں کہ کسی انسان نے خدا کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا، وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ ہندو مائیتھالوجی میں دیوی دیوتاؤں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذھن اگر خدا کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔
مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارفی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریکِ کار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو ہر انسان کو اس کے ہر اچھے اور برے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلتّوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقتور ہو کہ ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔
جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ ہوگئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ ازل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروں گا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔
جو خود ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ جب پیغام........