Bikhri Hai Meri Dastan |
ملک کے ممتاز شاعر اور معروف کالم نگار اظہارالحق صاحب کی خودنوشت "بکھری ہے میری داستاں"کئی ماہ پہلے مل گئی تھی مگر بوجوہ اس پر تبصرہ موخر ہوتا گیا۔ پہلے بڑے بھائی جان کی وفات کے سانحے سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک پڑھے لکھے صاحبِ عقل انسان کا نقطۂ نظر پیش کرنے میں پورے پانچ کالم صرف ہوگئے۔
محترم اظہار الحق صاحب شاعری کے ساتھ ساتھ نثر کے بھی شاہسوار ہیں اور کالم نگار کے طور پر بھی انھوں نے اپنا لوہا منوالیا ہے۔ میں ان کا مستقل قاری ہوں، اس کی ایک بڑی وجہ ان کا بے داغ کردار ہے، وہ ملٹری اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے مگر انھوں نے اپنا دامن ہر قسم کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو بہت سے دوسرے قلمکاروں کی طرح تعصّب اور جانبداری کے قلم سے نہیں لکھا۔
اس میدان میں بھی انھوں نے قلمی دیانت اور دانشورانہ غیر جانبداری قائم رکھی۔ انھیں ایک سیاسی لیڈر سے بڑی توقعات تھیں لہٰذا انھوں نے 2018 میں اسے سپورٹ کیا مگر جب اُس نے اپنی کارکردگی سے مایوس کیا اور دیانت، انصاف اور میرٹ کو دوسروں سے بھی زیادہ پامال کیا تو وہ اس کی حمایت سے دستبردار ہوگئے۔ مگر وہ موجودہ حکمرانوں کی غلطیوں پر انھیں بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔
میں نے ان کی خودنوشت چند نشستوں میں ہی پڑھ لی ہے، مصنف نے زمانۂ طالب علمی کا کچھ حصّہ اُس ڈھاکہ یونیورسٹی میں گذارا جو کبھی ہمارے مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی اور جس کا تعلیمی معیار مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) سے کہیں بلند تھا۔
اظہار صاحب نے اُن ایّام کو اتنی محبّت سے یاد کیا ہے کہ کتاب کے پہلے ساٹھ صفحات اس کے لیے مختص کردیئے ہیں۔ بنگالی طلباء کی محبّت اور مہمان نوازی کے واقعات بھی لکھے ہیں، وہاں کے اساتذہ کے اعلیٰ معیار کی تصویر کشی بھی کی ہے۔
ان کے ساتھ مغربی پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ، بیوروکریسی اور حکمرانوں کے غیر منصفانہ سلوک کا بھی ذکر کیا ہے اور بڑی درد مندی کے ساتھ بنگالی بھائیوں کا کیس بڑے موثر........