Sibt e Hassan Ki Mazi Ke Mazar Aur Jadeed Tehqeeq
سبط حسن کی "ماضی کے مزار" اور جدید تحقیق
نمرود نے ابراہیم سے کہا، میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ آگ کی پوجا کرو۔۔
ابراہیم نے کہا، میں پانی کی پوجا کیوں نہ کروں جو آگ کو بجھا دیتا ہے؟
نمردو نے کہا، اچھا پانی کی پوجا کرو۔۔
ابراہیم نے کہا، میں بادلوں کی پوجا کیوں نہ کروں جو پانی کو اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں؟
نمرود نے کہا، اچھا بادلوں کی پوجا کرو۔۔
ابراہیم نے کہا، میں ہوا کی پوجا کیوں نہ کروں کو بادلوں کو بکھیر دیتی ہے؟
نمرود نے کہا، اچھا ہوا کی پوجا کرو۔۔
ابراہیم نے کہا، میں انسان کی پوجا کیوں نہ کروں جو جھکڑ کا مقابلہ کرکے کھڑا رہتا ہے؟
نمرود غصے میں آ گیا اور اس نے ابراہیم کو آگ میں پھنکوا دیا۔
یہ کہانی قرآن میں نہیں ہے، سبطِ حسن نے اپنی کتاب ماضی کے مزار، کے لیے اسے تورات سے لیا ہے۔ قرآن میں صرف اتنا ہے کہ نمردو اور ابراہیم کی بحث ہوئی تھی (کیا تم نہیں جانتے کہ نمرود نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں بحث کی تھی: سورہ بقرہ، آیت 258)
سبطِ حسن اس کہانی سے بڑا اہم نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ وہ ایک تقریر میں کہتے ہیں کہ ابراہیم نے سٹیس کو پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے بہتی ندی کے ساتھ بہنے کی بجائے شک کا اظہار کیا اور اپنے زمانے کی مروج سوچ کو چیلنج کیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ سبطِ حسن نے بھی ساری زندگی اسی سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قلمی جہاد کیا اور یہی ان کی اہم کتاب ماضی کے مزار کا مرکزی موضوع ہے۔
سبطِ حسن نے یہ کتاب 1969 شائع کروائی تھی۔ اس کا شمار اردو کی چند مقبول ترین نان فکشن کتابوں میں کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اب تک اس کے 18 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ ویسے برسبیلِ تذکرہ اگر آپ سوچ رہے ہوں کہ اردو کی سرِ فہرست مقبول ترین کثیر الاشاعت نان فکشن کتاب کون سی ہے تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں، اس کا نام ہے موت کا منظر، مع مرنے کے بعد کیا ہوگا۔
خیر، ماضی کے مزار خاکہ سبطِ حسن نے 1952-53 میں قلعۂ لاہور میں ایامِ اسیری کے دوران تیار کر لیا تھا۔ وہ دراصل تین جلدوں پر مشتمل کتاب آثار و افکارِ مشرق لکھنا چاہتے تھے، جس کی پہلی جلد میں وردوِ عیسیٰ سے پہلے کی قدیم تہذیبوں کا ذکر، دوسری میں مسیحی دور اور تیسری میں ظہورِ اسلام کے بعد سے مغربی تہذیب کے فروغ تک احوال درج ہوتا۔ بدقسمتی سے انھیں اس عظیم الشان منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا موقع نہیں مل سکا۔
ماضی کے مزار میں بڑی حد تک وادیِ دجلہ و فرات کی تہذیب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کا ارادہ ایک اور جلد لکھنے کا ہے جس میں وادیِ سندھ، مصر، ترکی، ایران و عرب کی تہذیبوں کاجائزہ لیں گے، لیکن یہ دوسری جلد بھی سامنے نہیں آ سکی۔
مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ بلکہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ انھوں نے یہ ایک کتاب بھی کیسے لکھ دی۔ اس نوعیت کی کتاب لکھنے کے لیے سرفروشانہ ہمت اور جراتِ رندانہ کے ساتھ ساتھ سینکڑوں ماخذات کی........
