Asad Muhammad Khan Ka Afsana Ghus Baithiya: Takneek Ka Ajooba |
اسد محمد خاں کا افسانہ "گھس بیٹھیا": تکنیک کا عجوبہ
"کاسٹ آئرن اور لکڑی سے بنی مضبوط بینچ" کے نیچے لیٹا ببر یار خاں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، جو ظاہر ہے اس کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے ہولناک واقعہ ہے، لیکن مرتے مرتے اس پر اس سے بھی زیادہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ وہ کلمۂ شہادت ہی بھول گیا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ کہیں حرام کی موت نہ مر جائے۔
اور یوں آغاز ہوتا ہے اسد محمد خاں کے افسانے "گھس بیٹھیا" کا۔ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ کسی افسانے، کسی ناول، کسی ڈرامے کا اس سے زیادہ دہلا دینے والا آغاز ممکن ہے؟
لیکن پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
ببر خاں کو مرتے مرتے کلمۂ شہادت بھولنے کے علاوہ ایک اور غم بھی کھائے جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ "کاسٹ آئرن اور مضبوط لکڑی سے بنی" اسی بینچ کے اوپر ڈلیچن لکھیرا بھی خرخراتے ہوئے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ وہ ہندو ہے اور ببر یار خاں کو غم ہے کہ اس حادثاتی موت کی وجہ سے شہر بھر میں جو ہزاروں آدمی مر رہے ہیں ان میں سے مسلمان تو سیدھے شہادت کے رتبے پر فائز ہو جائیں گے، مگر یہ "سالا چتکبرا" سیدھا جہنم میں جائے گا۔ ببر خاں دعا مانگتا ہے، "اسے مسلمان کر دے مولا! یہ جہنم میں کہاں مارا مارا پھرے گا، اکیلا ہے سسرا"۔
یہ سب لوگ مکھیوں کی طرح کیوں مر رہے ہیں؟ اس لیے کہ 1984 میں بھوپال (اسد محمد خاں کی جنم بھومی) میں ایک امریکی فیکٹری سے زہرآلود گیس لیک ہونے سے دنیا کا بدترین صنعتی حادثہ رونما ہوا تھا جو ڈلیچن لکھیرے اور ببر یار خاں سمیت سولہ ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ........