Mazeed Sakht Geeri Be Chaini Ka Ilaj Nahi |
ایران میں جنوری دو ہزار پچیس میں ایک ڈالر کے سات لاکھ اور جون میں اسرائیل سے جنگ کے بعد نو لاکھ ریال مل رہے تھے۔ تازہ بے چینی کا آغاز اٹھائیس دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے ہوا جب ایک ڈالر کی قیمت ساڑھے چودہ لاکھ ریال تک پہنچ گئی اور اقتصادی اونٹ کی کمر توڑنے والے آخری تنکے نے تاجروں کو باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ گرینڈ بازار سے اٹھنے والی اس چنگاری نے راتوں رات اکتیس میں سے اٹھائیس صوبوں کو لپیٹ میں لے لیا۔
حکومت چونکہ بازار کی تاریخی سیاسی قوت سے واقف تھی لہذا سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں تاجروں کی حقیقی مشکلات کے حل کے لیے بات چیت مگر شرپسندوں سے آہنی طریقے سے نمٹنے کا حکم دیا۔
بازار (تاجر طبقہ) ہمیشہ سے ایران میں تبدیلی کا محور رہا ہے۔ بیسویں صدی کے شروع میں قاچار بادشاہت کے خاتمے کا ایک بڑا سبب بازار کی بے چینی تھی۔ اس بے چینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موجودہ رضا پہلوی کے دادا کرنل رضا خان نے اقتدار پر قبضہ کرکے خود کو بادشاہ ڈکلیر دیا۔
انیس سو تریپن میں جب برطانوی ایم آئی سکس اور امریکی سی آئی اے نے آپریشن ایجکس کے ذریعے کرائے کے مظاہرین تہران میں جمع کرکے ایرانی تیل کو قومی ملکیت میں لینے والے شاہ مخالف ڈاکٹر محمد مصدق کی ڈھائی برس سے قائم قوم پرست حکومت کا تختہ الٹ کے کرنل رضا خان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کی فسطائیت کو سہولت فراہم کی تب بازار نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے غیرجانبداری دکھائی۔
مگر انیس سو اٹھہتر تک یہی بازار پہلوی استبداد سے تنگ آ کر شاہ مخالف مذہبی طبقے کا ہراول دستہ بن گیا اور بادشاہت کو چمپت ہونا پڑا۔ نئی انقلابی حکومت میں بازار کا اثر و رسوخ کئی گنا بڑھ گیا۔ اقتصادی و تجارتی پالیسیوں میں اس کی مشاورت شامل رہی۔ کابینہ کے........