Lebanon Ko Maqbooza Maghrabi Kinara Banane Ki Tayyari |
لبنان کو مقبوضہ مغربی کنارہ بنانے کی تیاری
ہم اسی پر خوش ہیں کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جنوبی لبنان میں جنگ تیز کرنے پر کئی بار ننگی ننگی سنائیں کیونکہ نیتن یاہو اس حرکت سے ایران امریکا ممکنہ سمجھوتہ سبوتاژ کرنا چاہ رہا ہے۔ نیتن یاہونے بظاہر ٹرمپ کی انا کی وقتی تسکین کے لیے جنوبی بیروت پر حملہ نہ کرنے کا " احسان " کر دیا مگر اصل مقصد سے نیتن یاہو پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوا یعنی جنوبی لبنان کو " لبنانیوں سے پاک " بفر زون بنانا۔
حالانکہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت میں واضح طور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جامع اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم وہاں اسرائیلی فوج اسی طرح پنجے گاڑنا چاہتی ہے جس طرح انیس سو سڑسٹھ سے اب تک مغربی کنارے اور غزہ پر گاڑے ہیں۔ پھر اس بفر زون میں یہودی آبادکاری کی بنیاد ڈالی جائے گی اور جیسے جیسے دنیا ان حالات کی عادی ہوتی چلی جائے گی مغربی کنارے کی طرح جنوبی لبنان کو بھی غیر اعلانیہ ہڑپ کیا جائے گا۔
مغربی کنارہ مرحلہ وار ہتھیانے کے لیے پہلے پی ایل او کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ پھر اسے لالی پاپ دیا گیا کہ مسلح جدوجہد ترک کرنے کی صورت میں ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے امکان پر غور ہو سکتا ہے۔ جب پی ایل او نے ہتھیاروں سے تائب ہونے کا فیصلہ کیا تو رفتہ رفتہ اسے اسرائیل نے بی ٹیم کے طور پر قبول کر لیا۔ آج مغربی کنارے پر تیز رفتار یہودی آبادکاری جاری ہے اور فلسطینی اتھارٹی علاوہ رسمی چیخ و پکار کچھ نہیں کر پا رہی۔
بالکل اسی فارمولے کے تحت غزہ میں " دہشت گرد حماس " کے دانت نکالنے کی کوشش زوروں پر ہے اور بعینہہ لبنان میں اسرائیل کو منہ دینے والی واحد تنظیم حزب اللہ سے ہتھیار رکھوانے کی بھرپور امریکی اسرائیلی کوشش ہو رہی ہے۔ لاچار لبنانی حکومت کو اسی طرح گھٹنوں کے بل بٹھا کر استعمال کیا جا رہا........