Ghaza Aur Iran Mein Lash Shumari |
لگ بھگ ڈھائی برس سے مغربی میڈیا غزہ میں ہلاک، زخمی، معذور اور جھلسنے والے ہر انسان کی باریک بینی سے چھان پھٹک کرتا آ رہا ہے۔ یعنی وہ سچ مچ میں انسان ہی ہیں؟ واقعی مر گئے؟ مر گئے تو اسرائیلی بمباری، فائرنگ، ٹارچر یا محاصرے کے سبب ہی مرے اور جتنے بھی مرے ان میں سے کتنوں کے بارے میں یقین کیا جائے کہ وہ جنگجو نہیں عام سے لوگ تھے وغیرہ وغیرہ؟
تباہی کے عینی شاہد اگر مقامی فلسطینی ہیں اور انھوں نے اپنے پیاروں کو ایک کے بعد ایک مرتے بھی دیکھا ہے تب بھی کراس چیکنگ تو بنتی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت انسانی و مادی تباہی کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کرتی ہے ان میں سے ایک ایک دعوی کی صحت کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی لازم ہے۔ بھلے اقوامِ متحدہ سمیت ہر کے لیے دار بین الاقوامی تنظیم وزارتِ صحت کی جانب سے اکہتر ہزار ہلاکتوں کی محتاط گنتی کو درست ہی کیوں نہ مان لے اور چہار جانب سے یہ گواہی بھی کیوں نہ مل جائے کہ مرنے والوں کی اکثریت (اسی فیصد) عام شہریوں کی ہے۔ حتی کہ عالمی میڈیا (مغربی میڈیا) کو بمباری سے جلتے خیموں میں پگھلتے زندہ انسانوں کی ان سیکڑوں وڈیوز کی بھی تصدیق درکار ہے جن کا اوریجن ہی غزہ ہے۔
اب تو آزاد محقق بھی کہہ رہے ہیں کہ غزہ کی وزارتِ صحت نے سات اکتوبر دو........