Darya e Sindh Ki Azeem Tehzeeb Kyun Tabah Hui? |
ہماری درسی کتابوں میں یہ تو اچھے سے باور کروایا گیا ہے کہ ہڑپا اور موہنجو دڑو وادیِ سندھ کی عظیم الشان تہذیب کے درخشاں نمایندے اور اپنے زمانے کی جدید ترین ٹاؤن پلاننگ کا شاہکار ہیں۔ یہاں لوگ خوشحال تھے اور لڑائی بھڑائی سے عموماً دور رہتے تھے۔ ان شہروں کے تجارتی تعلقات افغانستان تا خلیجِ فارس اور ہندوستان کے ان علاقوں سے تھے جو تہذیبِ سندھ کے دائرے سے باہر تھے۔
انڈس تہذیب کی تانبے، سونے، قیمتی پتھروں، مٹی کے کھلونوں، اوزاروں اور چوبی کام کی مصنوعاتی باقیات فارس اور میسوپوٹیمیا سے بھی مل چکی ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ انڈس تہذیب جدید فنِ زراعت میں مہارت کے سبب گندم، چاول، جوار، کپاس سمیت ہر بنیادی فصل اگانے اور محفوظ رکھنے کے طریقے جانتی تھی۔
اگرچہ درسی کتابوں میں ہمیں یہی بتایا گیا کہ اس تہذیب کی تباہی وسطی ایشیا سے براستہ افغانستان اور ایران یلغار کرنے والے گھڑ سوار آریائی قبائل کے لگاتار حملوں سے ہوئی۔ مگر اب اس تھیوری پر بھی جدید محقق عرصے سے سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔
اس بابت کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے دو رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں۔ اول یہ کہ اس پڑھی لکھی تہذیب کا رسم الخط سمجھ میں آ جائے جو مہروں پر تو کندہ ہے مگر اب تک اس کی لسانی پکڑائی نہیں ہو پائی ہے۔ دوم یہ کہ ہڑپا اور موہنجو دڑو کی گزشتہ ایک صدی میں صرف دس فیصد کھدائی ہوئی ہے۔ جب تک مزید کھدائی نہیں ہو جاتی تب تک یہ عبوری نتیجہ حتمی نہیں ہو سکتا کہ اس تہذیب کے پاس اپنے دفاع........