American Kitchen Cabinet Ke Chand Kirdar |
امریکی کچن کیبنٹ کے چند کردار
صدر ٹرمپ بنجمن نیتن یاہو سے لاکھ خفگی کا اظہار کریں مگر کام تو انھیں امریکی اسٹیبلشمنٹ سے ہی نکلوانا ہے اور سیاست میں بھی مخیر بااثر لوگوں کے تعاون سے ہی آگے بڑھنا ہے۔ اس تناظر میں امریکی فیصلہ سازی پر کون کیسے اور کیوں اثر انداز ہوتا ہے۔ اس موضوع پر بھی بیسیوں بار کام ہو چکا ہے۔ لہذا آج ہم صرف "کچن کیبنٹ اور انر سرکل " کی بات کرتے ہیں۔
چالیس سالہ سٹیفن ملر کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ صیہونیوں سے بھی زیادہ صیہونی ہیں۔ وہ ریپبلیکنز کے اس سرکل کا حصہ ہیں جس کے نزدیک اسرائیل کی سلامتی امریکی سلامتی پر مقدم ہے۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی ملر صدارتی مشیر تھے اور دوسرے دور میں وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ہیں۔ پہلے دور میں سٹیفن ملر ہی تھے جنھوں نے سات مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی مگر عدالت نے کچھ عرصے بعد اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا۔ یہ آئیڈیا بھی سٹیفن ملر کا ہی تھا کہ میکسیکو کے راستے جو غیر قانونی تارکینِ وطن امریکا میں داخل ہوں ان کے بچوں کو ایک علیحدہ کیمپ میں رکھا جائے۔
ان متنازعہ پالیسیوں کے سبب کسی اور نے نہیں بلکہ سٹیفن ملر کے چچا ڈیوڈ گلوسر نے ملر کو ایک تارکِ وطن منافق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہی پالیسی امریکا میں ایک صدی پہلے لاگو ہوتی تو سٹیفن ملر کے پردادا امریکی ساحل پر نہیں اتر سکتے تھے۔
جب ملر کے پردادا وولف لیب گلوسر بیلاروس کی ایک غربت زدہ بستی سے فرار ہو کر امریکا پہنچے تو ان کی جیب میں صرف آٹھ ڈالر تھے۔ امریکا نے گلوسر خاندان کو غربت سے نکل کے امیر اور تعلیم یافتہ ہونے کا موقع دیا اور آج........