Aik Insani Kachre Ki Kahani |
ایک انسانی کچرے کی کہانی
شائد آپ کی یادداشت میں ہو کہ دو ہزار سترہ میں میانمار کی فوجی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل رخائن صوبے میں دو صدیوں سے آباد مسلمان روہنگیا اقلیت کے خلاف ایک اور بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا اور فوج نے انتہاپسند بودھ مذہبی گروہوں کی مدد سے سیکڑوں بستیاں اجاڑ دیں ہزاروں اقلیتی افراد قتل ہوئے اور لگ بھگ سات لاکھ سے زائد انسانوں نے پیدل یا کشتیوں کے ذریعے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور بعد میں بھی روہنگیوں کے غول کے غول اپنی بستیوں سے فرار ہوتے رہے۔
ان میں سے بارہ لاکھ سرحد پار بنگلہ دیش میں چٹاگانک کے پہاڑی علاقوں اور جزیروں میں بیٹھے ہیں اور ایک لاکھ ترانوے ہزار کو ملائشیا نے عارضی پناہ دے دی۔ چند ہزار بھارت بھی پہنچے۔ جہاں مودی حکومت نے انھیں کیمپوں میں زیرِ حراست رکھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ برس بھارتی بحریہ نے لگ بھگ چالیس روہنگیوں کو دلی سے کسی بہتر جگہ منتقلی کا جھانسہ دے کر جہاز میں سوار کرایا اور میانمار کے ساحل کے نزدیک بیچ سمندر میں یہ کہہ کر پھینک دیا کہ اب تیرتے ہوئے اپنے گھر چلے جاؤ۔ اس عجیب و غریب غیر انسانی واقعہ پر یو این ایچ سی آر نے تو تشویش ظاہر کی مگر دنیا کی کوئی حکومت چوں تک نہیں بولی۔
ان لاکھوں بے گھروں کی بنیادی دیکھ بھال اقوامِ متحدہ کا ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کر رہا ہے۔ کچھ مدد میزبان ممالک کی کوئی نہ کوئی انسانی و فلاحی حقوق کی تنظیم کر دیتی ہے۔ کیمپوں میں رہنے والے روہنگیوں کو صرف سات ڈالر ماہانہ الاؤنس زندہ رہنے کے نام پر ملتا ہے۔ جن ہزاروں لوگوں نے جان بچانے کے لیے خود کو خستہ حال کشتیوں میں سمندر کے حوالے کر دیا ان میں سے پندرہ فیصد ڈوب گئے۔
روہنگیا........